انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 49

۴۹ ملیں۔پس بائیکاٹ سے ہندوستان کی آزادی میں دیر لگے گی فائدہ نہ ہو گا۔مذکورہ بالا نقطہ نگاہ تو عام ہندوستانی کا نقطۂ نگاہ ہے۔لیکن ایک خالص اسلامی نقطۂ نگاہ ہے جسے اس وقت تک بحث میں نظر انداز کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بائیکاٹ کا اثر زیادہ تر مسلمانوں پر پڑے گا اور ہندوؤں پر بہت ہی کم پڑے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے ریفارم سکیم منظور ہوئی ہے ہندو اس امر کو سمجھ چکے ہیں کہ ہندوستان کا مستقبل انگریز قوم سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے لیڈر برابر آٹھ سال سے گرمیوں میں انگلستان جاتے ہیں اور بڑے بڑے انگریزوں سے ہندوؤں کے فائدہ کی باتیں کر کر کے انہیں اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں۔اسی طرح وہ کوشش کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں کو ہندوستان لاتے ہیں اور ہندوؤں کے گھر مہمان ٹهہراتے ہیں۔اور ہر وقت ان کے کان ان باتوں سے بھرتے ہیں جو ہندوؤں کے حق میں مفید ہوں اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ۔مگر مسلمانوں کے پاس نہ دولت ہے اور نہ ان کے اندر قربانی کا مادہ۔چنانچہ وہ اس آٹھ سال کے عرصہ میں بالکل سوتے رہے ہیں اور صرف اس سال عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب احمدی بیرسٹر لاہور ممبر پنجاب کو نسل اور ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب بیرسٹر ممبر یو۔پی کونسل اس غرض سے ولایت گئے تھے اور انہیں کئی بڑے بڑے آدمیوں نے کہا کہ ہمیں تو آج ہی معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی جداگانہ حفاظت کی ضرورت ہے ورنہ ہم تو بی خیال کرتے تھے کہ ہندو لیڈر جو باتیں کہتے رہے ہیں مسلمان ان سے متفق ہیں ورنہ مسلمان کیوں نہ آکر ہم سے اپنے حقوق کے متعلق بات کرتے لیکن دو آدمیوں کی سہ ماہی کوششیں آٹھ سال کے درجنوں آدمیوں کی کوششوں کا مقابلہ کب کر سکتی ہیں۔ہندو لیڈروں میں سے اکثر انگلستان کے بااثر لیڈروں کے ذاتی دوست ہیں۔جبکہ مسلمانوں میں سے بہت ہی کم لوگ انگریز لیڈروں کے روشناسا ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ انگریز ہندوستان کے مطالبات وہی سمجھتے ہیں جو ہندووں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔اور مسلمان اس امر کو یاد رکھیں کہ اگر کمیشن کا بائیکاٹ ہوا تو کمیشن جو رپورٹ کرے گا وہ اپنے پہلے علم کی بناء پر کرے گا اور وہ الف سے لے کر ”ی“ تک ہندو لیڈروں کا دیا ہوا ہے۔اس کی رپورٹ ایک ایک نقطہ میں مسلمانوں کے فوائد کے خلاف ہو گی اور گویا مہاسبھا کی لکھوائی ہوئی ہوگی۔ہندو لیڈر جانتے ہیں کہ کمیشن کے بائیکاٹ میں ان کا کوئی نقصان نہیں۔وہ جو کچھ اپنے متعلق کہناتھا آٹھ سال سے انگریز ممبران پارلیمنٹ کو رٹاتے چلے آئے ہیں۔اگر نقصان ہے تو مسلمانوں کا جن کے مطالبات اور جن کے حقوق سے پارلیمنٹ کے ممبر قريباً بالکل ناواقف ہیں۔پس بائیکاٹ ہندووں کا