انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 50

۵۰ کوئی نقصان نہیں کرے گا لیکن مسلمان اس کے نتیجہ میں سیاسی ترقی کی شاہراہ سے اس قدر دور چلے جائیں گے کہ پھر ان کے لئے سنبھلنا اور واپس آنا سخت مشکل ہو جائے گا۔اگر میری یاد غلطی نہیں کرتی تو سر سائمن جو کمیشن کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے ہیں ایک مقدمہ میں جس کی پنڈت موتی لال نہرو ولایت میں پیروی کر رہے ہیں بیرسٹر ہیں۔اور کئی ماہ سے ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔بھلا کون خیال کر سکتا ہے کہ اس طرح مل کر کام کرتے ہوئے ان کے درمیان سیاسیات ہند کے متعلق تبادلہ خیال نہ ہوتا ہو گا۔اور جبکہ پنڈت بھی اپنے خیالات انہیں پہلے ہی بتا چکے ہوں تو انہیں دوبارہ کمیشن کے سامنے جا کر انہی خیالات کو دُہرانے کی چنداں پرواہ نہیں ہو سکتی۔اگر کمیشن کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے کی ضرورت ہے تو غریب مسلمانوں کو جن کے لیڈروں کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ پچھلے آٹھ سالوں میں ہندوؤں کی طرح ولایت جاجاکر انگریزوں کو مسلمانوں کے حقوق سے آگاہ کرتے رہے۔پس اگر اب کمیشن کے آنے پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی بائیکاٹ میں شامل ہو گئے تو نقصان مسلمانوں کاہی ہو گا اور ذمہ داری بھی صرف انہی پر عائد ہوگی کہ دیکھے بھالتے کنویں میں گر گئے۔ہندوؤں کے بائیکاٹ کی تحریک ایسی ہی ہے جیسے کہ کوئی شخص کھانا کھا کر آئے اور اس شخص کو جس نے ابھی کھانا نہیں کھایا ہے کے کہ چلو آج کھانا کیا کھانا ہے فاقہ ہی رہے۔وہ تو کھانا کھا چکا ہے۔اس کا اس فقرہ کے کہہ دینے سے کوئی نقصان نہیں۔نقصان اس کا ہے جس نے ابھی کھانا نہیں کھایا۔مسلمانوں کو چاہئے کہ بائیکاٹ کی تحریک کرنے والوں سے کہیں کہ ہمیں بھی اس حد تک انگریزوں کے کان بھر لینے دو جس قدر کہ آپ نے بھرے ہیں۔اس کے بعد ہم بھی آپ کے ساتھ بائیکاٹ میں آ کر شریک ہو جائیں گے۔* مسلمانوں کو یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس بائیکاٹ کا نتیجہ کیا بتایا جاتا ہے۔اگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا تو ایسا بائیکاٹ کوئی عقلمند کب کرے گا۔اور اگر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انگریز ڈر کر ہندوستان کو حکومت خود اختیاری دے دیں گے تو مسلمان سوچ لیں کہ وہ حکومت جو مسلمانوں کے فوائد کی حفاظت کا سامان ہوئے بغیر ملے گی اس میں مسلمانوں کا ٹھکانا کہاں ہو گا۔اگر بغیر کسی سمجھوتے کے سَوَرَاج مسلمانوں کے لئے مفید ہوتا تو اس قدر اختلاف ہندووں سے کیوں کیا *میں اس حد تک اس مضمون کو لکھ چکا تھا کہ اخبارات سے معلوم ہوا کہ ٹائمز آف لندن نے بھی اس دلیل کو پیش کر کے مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ اس وقت ان کا کمیشن کو بائیکاٹ کرنا ان کے لئے مضر ہے ان کے نقطہ نگاہ سے انگریز ناواقف ہیں۔