انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 22

۲۲ نہ ہوں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتاہے کہ ہر مسلمان اس ضرورت کا احساس کر کے زندگی کے مختلف شعبوں میں سے کسی ایک کو لے کر ماہر بنے۔پانچویں ذمہ داری پانچویں ذمہ داری جس کی طرف کم توجہ ہے وہ یہ ہے کہ خوف اور رجا کی حالت افراد میں پیدا کی جاوے۔ایمان کے لئے کہاگیا ہے کہ وہ بين الخوف والر جاءوہے۔جبکہ ایمان کے لئے ضروری ہے تو قومیت بغیر اس کے کس طرح ہو سکتی ہے۔میں اس کی کسی قدر تشریح کرتا ہوں۔خو ف کے معنے ہیں ڈر اور رجاکے معنے امید۔وہ شخص جو کہتا ہے کہ ڈرنا نہیں چاہتے ، وہ قوم کا دشمن ہے۔میں جب یہ کہتا ہوں تو میں قوم کے ایک فرد کو بھی بُزدل نہیں بتانا چاہتا۔اور نہ میرا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی تھپڑ مارے تو یہ ڈر کر بھاگ جاوے ہرگز نہیں۔یہ شجاعت، ہمت اور حفاظت خود اختیاری کے خلاف ہے۔میں جب کہتا ہوں کہ قوم کے افراد میں ڈر ضروری ہے تو اس سے میری مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتے رہیں کہ اگر ہم نے سستی کی اور ذرا بھی غفلت کی اور مقابلہ میں آگے بڑھنے کے جوش اور شوق کو چھوڑ دیا تو بہ حیثیت قوم ہم ہلاک ہو جائیں گے۔جو عادات بد اور زہر ہیں وہ ہم میں پیدا نہ ہو جاویں، اس سے ڈرنا چاہئے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم چوکس اور محتاط رہیں گے۔کل کی مجلس میں ایک شخص نے کہا کہ پنجابی کیسے بُزدل ہیں؟ یہ درست نہیں۔پنجابی اگر ان خطرات سے ڈرتے ہیں جو قوي اغلاق اور ذمہ داریوں سے بے پروائی برتنے سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ عقل مند ہیں۔اعتراض کرنے والے صاحب کو معلوم نہیں کہ حذر کی تعلیم تو خدا نے بھی دی ہے۔پس یہ ڈر نہیں کہ ہتھیار ڈال دو ، یہ تو بزدلی ہے۔یہ ڈر چوکس رہنے کا مترادف ہے کہ دوسرے ہم سے آگے نہ بڑھ جائیں اور ہماری غفلت میں ہم پر حملہ نہ کردیں۔اسی طرح جو لوگ کہتے ہیں کہ اُمید خالی کیا کرے گی وہ بھی غلطی پر ہیں۔اُمید تو اعلی ٰ درجہ کی چیز ہے۔قرآن مجید نے صاف بتادیا ہے۔انه لا يائس من روح الله إلا القوم الكفرون – ۵؎ امید سے امنگ پیدا ہوئی اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔اسلام کے ہوتے ہوئے نڈری اور ناامیدی دونوں ناممکن ہیں مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اس وقت قوم کی حالت یہ ہے کہ ایک خالی ڈرتا ہے اور دوسرا صرف امید رکھتا ہے۔گویا آدھوں کی آنکھ نہیں اور دوسرے آدھوں کا ناک نہیں۔وہ مجلس میں نہیں کہہ سکتے اور دوسرے کام نہیں کر سکتے۔پس قوم کے افراد کے اندر اور مجموعی طور پر قوم میں خوف اور رجا پیدا کرو۔