انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 450

۴۵۰ چوتھی دلیل کا ردّ اب رہی چوتھی اور آخری دلیل اور شاید محفوظ نشستوں کے مخالفین کے نزدیک سب سے زبردست دلیل- لیکن ہر اک عقلمند محسوس کرے گا کہ یہ دلیل نہیں ہے بلکہ احساسات سے ملا عبہ ہے- اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس ملاعبہ میں نہرو رپورٹ کے مصنف بھی خوب دل کھول کر شامل ہوئے ہیں- اور یہ نہیں خیال کیا کہ ان کی یہ ترغیب اس کے بالکل الٹ نتیجہ پیدا کرے گی جو انہوں نے پیدا کرنا چاہا ہے- یہ دلیل جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں، یہ ہے کہ محفوظ نشستوں سے تو مسلمانوں کو صرف آبادی کے مطابق حق ملیں گے- لیکن اگر محفوظ نشستیں نہ ہوں تو انہیں اور بھی زیادہ حق مل جائیں گے- پس انہیں اس پر ناراض نہیں ہونا چاہئے- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پنجاب اور بنگال میں اس طرح تقسیم ہے کہ مخلوط انتخاب کا فائدہ مسلمانوں کو پہنچتا ہے- نہرو کمیٹی اس نظریہ پر اس قدر خوش ہے کہ اس نے باربار مسلمانوں کو اس کی طرف توجہ دلائی ہے- وہ صفحہ ۴۸ پر لکھتے ہیں-: ‘’ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ (باوجود محفوظ نشستوں کے نہ ہونے کے) اس فوقیت نے بنگال کے ہندوؤں کو ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخاب میں کوئی نفع نہیں دیا- اور ہمیں یقین ہے کہ کونسلوں کے انتخاب کا نتیجہ اس سے بھی زیادہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا’‘- پھر لکھتے ہیں-: ‘’مگر ہندو نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہم اس امر کا یقین کر سکتے ہیں کہ مسلمان اکثریت کیلئے پنجاب اور بنگال میں نشستوں کا محفوظ کرنا نشستوں کے محفوظ نہ کرنے کی نسبت عملی طور پر ہندوؤں کو اور غالباً سکھوں کو بھی نفع پہنچا سکتا ہے- وہ اعداد اور واقعات جو ہم بیان کر چکے ہیں- ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی حالت ایسی مضبوط ہے کہ وہ ایسے مخلوط انتخاب میں جس کے ساتھ نشستیں محفوظ نہ ہوں اپنی آبادی کی نسبت سے زیادہ ممبریاں حاصل کر لیں گے اور اس طرح بالکل ممکن ہے کہ ہندو اور سکھ اپنی آبادی کی نسبت سے بھی کم نیابت حاصل کریں- یہ ایک ایسا نظریہ نہیں جو صرف ممکن ہے، بلکہ غالباً ایسا ہی ہوگا لیکن ایسے وقوعہ کو کسی طرح روکا نہیں جا سکتا’‘- ۵۸؎