انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 303

کرتا- جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت آپ مدینہ اور اس کے گرد کے بہت سے علاقہ کے بادشاہ ہو چکے تھے اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت میں آپ کا اس یہودی کی سختی برداشت کرنا عزت کی کس قدر عظیم الشان قربانی تھا- چنانچہ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ یہودی مسلمان ہو گیا- چوتھی مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ آپ نے اپنے خاندان کے لوگوں کو کئی دفعہ ایسے آدمیوں کے ماتحت کیا جو خاندانی لحاظ سے ادنیٰ تھے- چنانچہ زید بن حارثہ جو آپ کے آزادکردہ غلام تھے ان کے ماتحت آپ نے حضرت علیؓ کے بھائی حضرت جعفر طیار کو ایک فوج میں بھیجا- اسی طرح ابو لہب کے دو بیٹوں سے آپ کی دو بیٹیاں بیاہی ہوئی تھیں- اس نے دھمکی دی کہ اگر آپ توحید کی تعلیم ترک نہ کریں گے تو میں اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوا دوں گا مگر آپ نے پرواہ نہ کی- اور اس بدبخت نے اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوا دی- اوپر کی مثالوں کے علاوہ مکہ میں آپ پر غلاظت ڈالی جاتی، منہ پر تھوکا جاتا، تھپڑ مارے جاتے آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر کھینچا جاتا اور ہر طرح ہتک کرنے کی کوشش کی جاتی- مگر آپ یہ سب باتیں برداشت کرتے کہ خدا تعالیٰ کے نام کی عزت ہو- آپ مکہ میں صادق اور امین کہلاتے تھے- اپنی قوم کی ترقی کا بیڑا اٹھانے کے بعد آپ کا نام کاذب اور جاہ طلب رکھا گیا- پہلی عزت سب مٹ گئی- پہلا ادب نفرت اور حقارت سے بدل گیا- مگر آپ نے یہ سب کچھ برداشت کیا تا کہ دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم ہو اور دنیا جہالت اور توہم پرستی سے آزاد ہو- وطن کی قربانی وطن ہر ایک کے لئے ایک عزیز چیز ہوتی ہے- لوگ اس کے لئے اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنا وطن عزیز تھا اور آپ اسے چھوڑنا نہ چاہتے تھے- مگر آپ نے خدا کے لئے اس کی بھی قربانی کی- آپ کو وطن سے جو محبت تھی اس کا پتہ اس سے ملتا ہے کہ جب آپ وطن چھوڑنے لگے تو آپ کو اس کا بہت صدمہ ہوا اور آپ نے دردناک الفاظ میں مکہ کی طرف دیکھ کر اسے مخاطب کر کے کہا کہ اے مکہ مجھے تو بہت ہی پیارا ہے- مگر افسوس کہ تیرے رہنے والے مجھے یہاں نہیں رہنے دیتے- یہ تو وطن کی وہ قربانی تھی جو آپ نے مجبوری کی حالت میں کی- مگر اس کے بعد آپ نے وطن کی ایسی