انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 302

۳۰۲ ہیں- مثلاً صلح حدیبیہ ہی کا واقعہ ہے کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو آپ نے لکھایا کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ اور مکہ والوں کے درمیان ہے- حضرت علیؓ یہ معاہدہ لکھ رہے تھے- کفار نے کہا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو- کیونکہ ہم آپ کو رسول نہیں مانتے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- اچھا اسے مٹا دو- حضرت علیؓ نے جو محبت رسول کے متوالے تھے کہا، مجھ سے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ کا لفظ لکھ کر کاٹ دوں- آپ نے فرمایا- کاغذ میری طرف کرو اور رسول اللہ کا لفظ اپنے ہاتھ سے آپ نے مٹا دیا-۳۹؎ صلح اور امن کی خاطر اس قسم کی قربانی بہت کم لوگ کر سکتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فاتح کی حیثیت میں تھے- آپ کا لشکر جنگ کے لئے بیتاب ہو رہا تھا کیونکہ وہ مکہ والوں کے بے جا مظالم کو دیکھ دیکھ کر جوش سے ابل رہا تھا- اہل مکہ اس وقت بالکل بے بس تھے- ان کا لشکر تھوڑا اور ان کے مددگار دور تھے- پس ان کی ان ہتک آمیز باتوں کا علاج آپ فوراً کر سکتے تھے- مگر آپ کے سامنے یہ بات تھی کہ وہ مقام کہ جسے خدا تعالیٰ نے اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہاں لوگ امن سے اکٹھے ہو کر اصلاح نفس اور اصلاح عالم کی طرف توجہ کر سکیں، اس جگہ جنگ نہ ہو اور اس کی دیرینہ عزت کو صدمہ نہ پہنچے- پس اس کی خاطر ہر ایک ہتک کا کلمہ سنتے تھے اور خاموش ہو جاتے تھے- دوسری مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ اس زمانہ میں مکہ میں غلاموں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ بہت معزز تھا- بڑے بڑے قبیلوں والے اس قبیلہ کو لڑکیاں دینا فخر سمجھتے تھے- مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن کی شادی ایک آزاد شدہ غلام سے کرد دی- یہ عزت کی کتنی بڑی قربانی تھی- آپ نے اس طرح عملی قربانی سے لوگوں کو سبق دیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں- فرق صرف نیکی، تقویٰ، اخلاص اور اخلاق سے پیدا ہوتا ہے- تیسری مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی آیا جس کا آپ نے قرضہ دینا تھا- اس نے آ کر سخت کلامی شروع کی اور گو ادائیگی قرض کی معیاد ابھی پوری نہ ہوئی تھی- مگر آپ نے اس سے معذرت کی اور ایک صحابی کو بھیجا کہ فلاں شخص سے جا کر کچھ قرض لے آؤ اور اس یہودی کا قرض ادا کر دیا- جب وہ یہودی سخت کلامی کر رہا تھا تو صحابہ کو اس یہودی پر سخت غصہ آیا اور ان میں سے بعض اسے سزا دینے کے لئے تیار ہو گئے- مگر آپ نے فرمایا اسے کچھ مت کہو، کیونکہ میں نے اس کا قرض دینا تھا اور اس کا حق تھا کہ مجھ سے مطالبہ