انوارالعلوم (جلد 10) — Page 288
۲۸۸ تمدنی اور شرعی مساوات کے علاوہ آپ نے روحانی مساوات بھی قائم کی ہے چنانچہ آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہر ایک قوم کے لئے روحانی بادشاہت پانے کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب دنیا کے لئے بھیجا ہے کوئی ادنیٰ ہو یا اعلیٰ- خدا تعالیٰ کے لئے سب برابر ہیں- پس وہ اس کے دین میں داخل ہو سکتے ہیں اور اعلیٰ روحانی انعامات پا سکتے ہیں- قیامِ امن کے سامان ساتواں احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے سامان پیدا کئے ہیں جس کے ثبوت میں مندرجہ ذیل چند امور پیش کئے جاتے ہیں- ہر قوم کے بزرگوں کا ادب (۱) بہت سی لڑائیاں اس سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے مذہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سوائے ہمارے خدا تعالیٰ کو اور کوئی عزیز نہیں ہوا- باقی لوگ ازل سے خدا کے دروازہ سے دھتکارے ہوئے ہیں اب یہ خیال فطرت کے بالکل مخالف ہے خواہ کوئی کسی قوم کا ہو اور کسی ملک کا ہو وہ خدا تعالیٰ پر اپنا ایسا ہی حق سمجھتا ہے جیسا کہ دوسرا- پس اس قوم کے خیال سن کر جذبہ حقارت بھڑک اٹھتا ہے اور جھگڑا اور فساد پیدا ہو جاتا ہے- آپ نے اس جھگڑے کا یہ اعلان کر کے کہ ان من امہ الا خلا فیھا نذیر ۲۸؎بالکل بند کر دیا- یعنی کوئی قوم بھی ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کے نبی نہ گذرے ہوں- اس اعلان کے ذریعہ سے سب اقوام کے نبیوں کے تقدس کو قبول کر لیا گیا ہے اور وہ منافرت جو دائرہ ہدایت کے محدود کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اس اعلان کو مدنظر رکھنے والے کے دل سے دور ہو جاتی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سب مذاہب کی اصل سچائی ہے- پس باوجود اختلاف کے مجھے ان سے اتحاد ہے سب مذاہب خدا کے قائم کئے ہوئے اور اسی کے جاری کئے ہوئے ہیں- پس ان سے بغض اور ان کا قطعی انکار خود خدا کے فضل کا انکار ہے- اب غور کرو آپ نے یہ کیسا امن قائم کرنے کا طریق بتایا ہے- ایک ہندو جب ہم سے پوچھتا ہے تم رامچندر جی کو کیسا سمجھتے ہو- تو ہم کہتے ہیں- ہم انہیں خدا تعالیٰ کا بزرگ سمجھتے ہیں- یہ بات سن کر ایک ہندو ہم سے کس طرح ناراض ہو سکتا ہے- اسی طرح ہم جہاں جائیں ہمیں اس بات کی فکر نہ ہوگی کہ دوسروں کے بزرگوں میں کیڑے نکالیں- اگر کوئی بتائے کہ