انوارالعلوم (جلد 10) — Page 287
۲۸۷ جائز سمجھتے تو جب آپ نے یہ فرمایا تھا- انصر اخاک ظالم او مظلوما- اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم- تو اس وقت مسلمان حیران کیوں رہ جاتے اگر انہیں ظلم کی تعلیم دی جاتی تھی تو ان کے حیران رہ جانے کا کوئی موقع نہ تھا- وہ تو ایسی تعلیم کے سننے کے عادی تھے- لیکن وہ حیران ہوئے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ انہیں روزانہ یہی تعلیم ملتی تھی کہ ظلم نہیں کرنا چاہئے اور یہی وجہ تھی کہ جب انہیں یہ کہا گیا کہ اپنے ظالم بھائی کی مدد کر- تو اس تعلیم کو عام تعلیم کے خلاف پا کر وہ گھبرا گئے اور اس کی تشریح طلب کی جو ایسی بے نظیر تھی کہ اس نے اخلاق فاضلہ کے لئے نئے دروازے کھول دیئے- عہد کا احترام اسی مساوات کی مثال کے طور پر آپ کا وہ طریق عمل پیش کیا جا سکتا ہے جو آپ معاہدات کی پابندی میں کرتے تھے- ایک دفعہ آپ لڑائی کے لئے جا رہے تھے- لڑائی کے وقت سب جانتے ہیں کہ ایک ایک آدمی کس قدر قیمتی ہوتا ہے- اس وقت رستہ میں دو آدمی آپ کو ملے- آپ نے دریافت فرمایا- کس طرح آئے ہو- انہوں نے کہا اسلام لانے کے لئے آئے ہیں- ہم مکہ سے آئے ہیں- مگر وہاں کہہ آئے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کے لئے نہیں جا رہے- آپ نے فرمایا- یہ کہہ کر آئے ہو تو ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہو- جب ان سے تم کہہ آئے ہو کہ ہم مسلمانوں کی مدد کو نہیں جا رہے تو اب ہمارے ساتھ ملنے سے وعدہ خلافی ہو جائے گی- پس اس سے بچو- یہ کیسا اعلیٰ سبق مساوات کا ہے- ہر چہ بر خود مپسندی بردیگراں مپسند ایک خالی مقولہ ہے جس پر لوگ عمل نہیں کرتے ہاں زور بہت دیتے ہیں- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ایسے بے نظیر طور پر عمل کیا ہے کہ اس کی نظر تاریخ میں نہیں ملتی- ذرا غور کرو ایک ہزار دشمن کے مقابلہ کے لئے آپ جا رہے ہیں اور صرف تین سو آدمی آپ کے ساتھ ہیں اس وقت آپ کو دو آدمی ملتے ہیں- جو تجربہ کار سپاہی ہونے کی وجہ سے آپ کے لئے نہایت کارآمد ہیں مگر آپ انہیں جنگ میں شامل ہونے سے روک دیتے ہیں تاکہ ان کا عہد قائم رہے- اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ عہد خواہ اپنے سے ہو یا غیر سے کس طرح آپ اس کی پابندی کراتے تھے- حتیٰکہ جو دشمن جنگ کر رہا ہو- اس کے عہد کو بھی پورا کراتے تھے-