انوارالعلوم (جلد 10) — Page 271
ا۲۷ دنیا کا اجر مقرر کر چھوڑے ہیں۔اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میری زوجیت یا میری موجودگی میں تم کو مال نہیں مل سکتا۔اگر میری زندگی میں مال لینا چاہتی ہو۔تو طلاق لے لو۔اور الگ ہو جاؤ کہ میری دینی ذمہ داریاں مالداروں کی زندگی کی برداشت نہیں کر سکتیں۔لیکن اگر تم اس وقت میرے کام لو اور میرے ساتھ مل کر خد مت دین کو ترنج دو۔تو پھر بھی تم کو مال مل جائے گا مگر میری وفات کے بعد ملے گا۔میری موجودگی میں نہیں۔چنانچہ آپ کی بیویوں کو مال ملے اور بہت ملے مگر آپ کی وفات کے بعد اب دیکھو کہ اس طرح عورتوں کی خواہشات کو ٹھکرا دینے والا کیا عیاشی کملا سکتا ہے اور کیا کوئی عیاش اپنی بیویوں کی مالی و زینت کی خوائش سن کر انہیں کہہ سکتا ہے کہ زینت کے سامان چاہیں تو طلاق لے لو۔عورتوں میں بے انصافی پھر عیاش انسان عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے جسے خوبصورت سمجھے اس کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے اور باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر رسول کریم ٹیم کا یہ حال تھا کہ جب آپ بیکار ہوئے تو اس حالت میں بھی دو سرول کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس بیوی کے ہاں چلے جاتے جس کی باری ہوتی۔وفات سے تین دن قبل تک ایبای کرتے رہے حتی کہ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت فاطمہ رو پڑیں اور آپ کی بیویوں نے بھی کہا کہ آپ ایک جمله شهر جایئے۔ہم بخوشی اس کی اجازت دیتی ہیں۔تب آپ ایک جگہ ٹھہر گئے جو انسان بیویوں میں انصاف کرنے کا اس قدر پابند ہو کر مرض الموت میں بھی دوسرے کے کندھوں کا سہارا لے کر ان کے ہاں باری باری جاتا ہو اسے کون عياش کہہ سکتا ہے۔عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرتا پھر عیاش اپنا زیادہ وقت عورتوں کی صحبت میں گزارتا ہے۔مگر آپ کی یہ حالت تھی کہ مسیح سے شام تک باہر رہتے اور رات کو جب گھر جاتے تو کھانا کھا کر لیٹ جاتے اور پھر رات کو اٹھ کر عبادت کرتے۔اس طرح بندھے ہوئے اوقات میں آپ کو عیاشی کے لئے کونسا وقت ملتا تھا۔رسول کریم ؐ کی شادیوں کی غرض پس آپ کی کئی بیویوں کو دیکھ کر یہ نہیں کیا رسول کریم مٹی کی شادیوں کی غرض جاسکتا کہ نعود بالله آپ عیاش تھے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ کسی غرض کو مد نظر رکھ کر آپ نے شادیاں کیں۔خدا کے لئے یا اپنے نفس