انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 272

۲۷۲ کے لئے- اگر خدا کے لئے کیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کا زیادہ بیویاں کرنا عیاشی کی دلیل ہے- میں ثابت کر چکا ہوں کہ آپ کا ایک سے زیادہ بیویاں کرنا نفس کی خواہشات کے لئے نہ تھا- کیونکہ انہیں تو آپ نے پورا نہیں کیا- اس کی وجہ کوئی اور تھی اور وہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جس کے مرد اور عورتیں سب شریعت سے بے خبر تھے- اس قوم میں آپ نے شریعت کو رائج کرنا تھا- پس آپ نے مختلف خاندانوں کی بیویوں سے شادیاں کیں- تاکہ وہ دین کے اس حصہ کو جو عورتوں سے تعلق رکھتا ہے سیکھ کر اپنی ہم جنسوں کو تعلیم دیں اور یہ ایک محض للہی غرض تھی اور آپ کا زیادہ شادیاں کرنا اور ان میں انصاف قائم رکھنا ایک بہت بڑی قربانی تھا نہ کہ عیاشی- اور اب جب کہ میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ جس رنگ میں آپ نے عورتوں سے معاملہ کیا ہے وہ عیاشی نہیں بلکہ قربانی ہے- تو یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کہ آپ نے اپنی امت کے انہی لوگوں کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے جو آپ کی طرح عورتوں سے معاملہ کر سکیں تو اس حکم سے کسی ظلم کی بنیاد نہیں پڑی- بلکہ دنیوی ترقی کے لئے ایک بہت بڑی قربانی اور ملک کی اخلاقی درستی کے لئے ایک بہت بڑی تدبیر کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے- غلامی باقی رہا غلامی کا اعتراض- اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں- کیونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور بہت سے پہلوؤں پر بحث کا محتاج ہے- پس میں ایک صاف اور سیدھا طریق اس مسئلہ کے حل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہوں- کہا جاتا ہے کہ آپ نے غلامی کو رائج کر کے دنیا پر بہت بڑا ظلم کیا ہے- میں کہتا ہوں کہ آؤ آپ کی زندگی پر غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا آپ غلاموں کے حامی تھے یا غلامی کے حامی- اور یہ بھی کہ غلام آپ کے دوست تھے یا آپ کے دشمن- کیونکہ ہر ایک قوم اپنے فوائد کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتی ہے- پہلی بات کو معلوم کرنے کے لئے میں آپ کی جوانی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں- جب آپ کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی ہے اس وقت آپ کی عمر پچیس سال کی تھی اور اس عمر میں انسان کا دماغ حکومت کے خیالات سے بھرا ہوا ہوتا ہے- حضرت خدیجہؓ نے شادی کے بعد اپنا سب مال اور اپنے سب غلام آپ سپرد کر دیئے اور آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے سب غلاموں کو آزاد کر دیا- اب بتاؤ کہ یہ شخص جس نے جوانی کے ایام میں دولت ہاتھ آتے ہی یہ کام کیا ہے غلامی کاحامی کہلا سکتا ہے یا غلاموں کا-