انوارالعلوم (جلد 10) — Page 224
۲۲۴ رکھ دیا ہے جس پر ہمارے مطالبات کی بنیاد ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندوؤں نے اپنے پچھلے اعمال سے اپنے آپ کو قابل اعتماد ثابت نہیں کیا بلکہ ہر جگہ اور ہر موقع پر ہمیں یہ تلخ تجربہ ہوا ہے کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں اس انتخاب کے بعد ہم اس دلیل کو کس طرح پیش کر سکتے ہیں- انگریزی دماغ جو مذہبی تعصب کو سمجھنے سے قاصر ہے اور سیاسیات میں مذہبی سوال کو لانے سے گھبراتا ہے جب اس پر یہ نقش خود ہمارے انتخاب سے پڑے گا کہ مسلمان نہ صرف یہ کہ ہندوؤں پر اعتماد کر سکتے ہیں بلکہ انہیں ایسے نازک موقع پر جب کہ ان کی قوم کی زندگی اور موت کا سوال تھا نمائندہ مقرر کر سکتے ہیں تو یقیناً ان کا رجحان ادھر ہی ہوگا کہ عدم اعتماد محض ایک بہانہ ہے اور صرف مسلمانوں کی یہ خواہش ہے کہ قطع نظر لیاقت کے ان کے نالائق آدمی بھی عہدے پا سکیں ورنہ ہندوؤں سے ان کو کوئی حقیقی ضرر نہیں پہنچ رہا- اب اگر یہ خیال کمیشن کے ممبروں کے دل میں پیدا ہو جائے اور اس انتخاب کے بعد اس قسم کا خیال پیدا ہو جانا بعید نہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ ہماری تمام اس جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلے گا جو ہم مسلمانوں کی اقتصادی اور سیاسی غلامی کے خلاف کرتے چلے آئے ہیں کیا وہ سب کی سب باطل نہ جائے گی- اس جگہ کہا جا سکتا ہے کہ اس انتخاب کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ کمیشن کے ممبر یہ سمجھیں کہ مسلمان ہندوؤں سے نیک سلوک کرتے ہیں لیکن وہ ان سے نیک سلوک نہیں کرتے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ قومی نیابت کے سوال میں دوسری قوم کے آدمی کو نمائندہ بنانا نیک سلوک نہیں کہلاتا بلکہ اس کے صریح یہ معنی ہیں کہ ہم اس پر کلی طور پر اعتماد کرتے ہیں اور اسے اپنے آدمیوں سے اچھا سمجھتے ہیں یا یہ کہ ہم بیوقوف ہیں اور اپنے برے بھلے کو نہیں سمجھ سکتے اور ان دونوں نتائج میں سے جو بھی کمیشن کے ممبر نکالیں مسلمانوں کے حق میں اچھا نہ ہوگا- صدائے احتجاج کی غلطی غرض یہ تین نقصان ہیں جو اس انتخاب سے مسلمانوں کو پہنچے ہیں اور کوئی شخص بھی غور کرنے کے بعد ان نقصانات کی صحت سے انکار نہیں کر سکتا- مگر میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ کونسل کے فیصلہ کے خلاف جو احتجاج کی آواز بلند کی گئی ہے وہ بھی درست نہیں- اول تو بعض لوگوں نے یہ بات تحریر و تقریر کے ذریعہ سے مشہور کر رکھی ہے کہ گویا یہ انتخاب کسی سازش کے ذریعہ سے ہوا ہے حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے- سازش بھی طاقت کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ خیال کرنا کہ عزیز مکرم