انوارالعلوم (جلد 10) — Page 225
۲۲۵ چوہدری ظفراللہ خان صاحب، سردار سکندر حیات خان صاحب اور چوہدری چھوٹو رام صاحب کو ایسی طاقت حاصل تھی کہ وہ سازش سے لائق آدمیوں کو انتخاب سے محروم کر سکتے تھے یا یہ کہ مسلمانوں کو مناسب حقوق ملنے سے روک سکتے تھے ایک ایسی بات ہے جسے کوئی انسان باور نہیں کر سکتا- ان تینوں صاحبان میں سے ایک صاحب ہندو ہیں، دوسرے پنجاب کے ایک کونے کے رہنے والے ہیں اور تیسرے احمدی ہیں- اور احمدیت لوگوں کی توجہ کو پھیرنے کی بجائے آج کل مخالفت کے اکسانے کا موجب ہو جاتی ہے پھر دونوں مسلمان جونیر ہیں اور سیاسیات کے میدان میں بالکل نئے- پس ان کا انتخاب اگر ہوا ہے تو ان کی لیاقت کی وجہ سے یا ذی اثر لوگوں کی سازش سے- اور دونوں صورتوں میں ان ممبروں پر کوئی الزام نہیں آ سکتا- علاوہ ازیں واقعات سے ثابت ہے کہ انتخاب کے وقت چوہدری ظفراللہ خان صاحب مجلس میں موجود ہی نہ تھے- انہیں بعد میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام منتخب ہو گیا ہے اور اس کے بعد بھی انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے دو دفعہ استعفیٰ دینے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی- پس جو الزامات نمائندوں پر لگائے جاتے ہیں بالکل درست نہیں ہیں- غلطی کی اصل وجہ اصل میں اس تمام غلطی کی وجہیں تین ہیں- ایک تو مسلمانوں کی وہ پالیسی ہے جو انہوں نے میاں سرفضل حسین صاحب کی قیادت میں اصلاحات کے دورہ کی ابتداء سے اختیار کی اور دوسرے بعض ممبروں کی بائیکاٹ کی پالیسی جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے اصل میں حق تو یہ تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے چار ممبر منتخب ہوتے لیکن حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ تین سے زیادہ کا انتخاب ناممکن ہو گیا- اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ ہر ممبر کے انتخاب کے لئے سات ووٹوں کی ضرورت تھی لیکن کل تئیس ممبر مسلمانوں کے ساتھ تھے کیونکہ پانچ عدم تعاونی ممبر ووٹ دینے سے مجتنب رہے- اب یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو اس پر واویلا کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور دوسری طرف اس نازک موقع پر ووٹ دینے سے اجتناب کر کے خود مسلمان ممبروں نے مسلمانوں کو ان کے حق سے محروم رکھا ہے- اگر عدم تعاونی اس وقت اپنی ذمہ واری کو سمجھتے تو چار مسلمانوں کا منتخب ہونا یقینی تھا لیکن ان کی بائیکاٹ کی پالیسی جو موسم اور غیر موسم ظاہر ہوتی رہتی ہے اس وقت بھی نہایت بے موقع ظاہر ہوئی- یہ عجیب بات ہے کہ وہ مسلمان ممبر کونسل میں جاتے ہیں دوسرے موقعوں پر ووٹ بھی دیتے ہیں لیکن جس وقت مسلمانوں کی آئندہ بہبود