انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 163

۱۶۳ آدم کے واقعہ کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ملائکہ نے خدا تعالیٰ پر اعتراض کیا کہ اسے کیوں پیدا کیا گیا ہے- اسی طرح خیال کیا جاتا تھا کہ بعض ملائکہ دنیا میں آئے اور ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے- آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دی اور وہ چاہ بابل میں اب تک قید ہیں- حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے ان اتہامات سے ملائکہ کو پاک کیا اور بتایا کہ ملائکہ تو قانون قدرت کی پہلی زنجیر ہیں- ان میں خیروشر کے اختیار کرنے کی قدرت ہی حاصل نہیں- انہیں تو جو کچھ خدا تعالیٰ کہتا ہے کرتے ہیں- نہ اس کے خلاف ایک بالشت ادھر ہو سکتے ہیں نہ ادھر- (۴) چوتھی غلطی یہ لگ رہی تھی- کہ ملائکہ کو ایک فضول سا وجود سمجھا جاتا تھا- جیسے کہ بڑے بڑے بادشاہ اپنے گرد ایک حلقہ آدمیوں کا رکھتے ہیں گویا خدا تعالیٰ نے بھی اسی طرح انہیں رکھا ہوا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ ایسا نہیں بلکہ سب کارخانہ عالم انہی پر چل رہا ہے پھر ان کا کام انسانوں کے دلوں میں نیک تحریکات کرنا بھی ہے اور انسان ان سے تعلقات پیدا کر کے روحانی علوم میں ترقی کر سکتا ہے- انبیاء کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ چھٹا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کیا کہ انبیاء کے متعلق جو غلطیاں پھیلی ہوئی تھیں ان کو دور کیا- (۱) پہلی غلط فہمی انبیاء کے متعلق یہ تھی کہ مسلمانوں میں سے سنی سوائے اولیاء اللہ اور صوفیاء کے گروہ اور ان کے متعلقین کے عصمت انبیاء کے مخالف تھے بعض تو امکانات کی حد تک ہی رہتے لیکن بہت سے عملاً انبیاء کی طرف گناہ منسوب کرتے اور اس میں عیب محسوس نہ کرتے تھے- حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کہتے تھے کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے تھے- حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق کہتے کہ انہوں نے چوری کی تھی- حضرت الیاس علیہ السلام کے متعلق کہتے کہ وہ خدا سے ناراض ہو گئے تھے- داؤد علیہ السلام کی نسبت کہتے کہ وہ کسی غیر کی بیوی پر عاشق ہو گئے تھے اور اس کے حصول کے لئے انہوں نے خاوند کو جنگ پر بھجوا کر مروا دیا- یہ مرض یہاں تک ترقی کر گیا کہ سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی محفوظ نہ رہی تھی- (الف) حضرت مسیح موعودؑ نے بتایا کہ یہ خیالات بالکل غلط ہیں اور جو باتیں بیان کی جاتی ہیں بالکل جھوٹ ہیں- آپ نے ان باتوں کا غلط ہونا دو طرح ثابت کیا- ایک اس طرح کہ