انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 147

۱۴۷ غرض قرآن کریم کے مکمل ہونے کا ثبوت خود قرآن کریم ہے- اگر حضرت عثمانؓ یا اور کوئی صحابی اس کی ایک آیت بھی نکال دیتے تو اس میں کمی واقع ہو جاتی- لیکن تعجب ہے کہ باوجود اس بیان کے کہ اس سے دس پارے کم کر دیئے گئے اس میں کوئی نقص نظر نہیں آتا- اس صورت میں تو بڑے بڑے اہم مسائل ایسے ہونے چاہئیں تھے جن کے متعلق قرآن کریم میں کچھ ذکر نہ ہوتا- مگر قرآن کریم میں دین اور روحانیت سے تعلق رکھنے والی سب باتیں موجود ہیں- (۲)دوسرا خیال مسلمانوں میں یہ پیدا ہو گیا تھا کہ قرآن کا ایک حصہ منسوخ ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا جواب نہایت لطیف پیرایہ میں دیا- اور وہ اس طرح کہ جن آیات کو لوگ منسوخ قرار دیتے تھے- ان میں سے ایسے ایسے معارف بیان فرمائے جن کو سن کر دشمن بھی حیران ہو گئے اور آپ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ایک آیت بھی قرآن کریم کی ایسی نہیں جس کی ضرورت ثابت نہ کی جا سکے- اور اب وہی غیر احمدی جو بعض آیات کو منسوخ کہتے تھے دشمنان اسلام کے سامنے انہیں آیات کو پیش کر کے اسلام کی برتری ثابت کرتے ہیں- مثلاًلکم دینکم ولی دین ۱۲؎کی آیت جسے منسوخ کہا جاتا تھا- اب اسی کو مخالفین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے- (۳) تیسری غلطی قرآن کریم کے متعلق لوگوں کو یہ لگ رہی تھی کہ اکثر حصہ مسلمانوں کا یہ خیال کرتا تھا کہ اس کے معارف کا سلسلہ پچھلے زمانہ میں ختم ہو گیا ہے اس وہم کا ازالہ بھی آپ نے کیا- اور اس کے خلاف بڑے زور سے آواز اٹھائی اور ثابت کیا کہ نہ صرف یہ کہ پچھلے زمانہ میں اس کے معارف ختم نہیں ہوئے- بلکہ آج بھی ختم نہیں ہوئے- اور آئندہ بھی ختم نہ ہونگے- آپ فرماتے ہیں- ’’جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں- یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو‘‘- ۱۳؎ چنانچہ بہت سی پیشگوئیاں جو اس زمانہ کے متعلق تھیں اور جنہیں پہلے زمانہ کے لوگ نہیں سمجھتے تھے آپ نے قرآن کریم سے نکال کر سمجھائیں- مثلاًاذا العشار عطلت ؎۱۴کی پیشگوئی تھی- اس کے معنے پہلے لوگ یہی کرتے تھے کہ قیامت کے دن لوگ اونٹوں پر سوار