انوارالعلوم (جلد 10) — Page 146
۱۴۶ بعض مسلمانوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کریم کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اس میں تبدیلی ہو گئی ہے اور بعض حصے اس کے چھپنے سے رہ گئے ہیں- اس خیال کی بھی آپ نے تردید فرمائی اور بتایا کہ قرآن کریم مکمل کتاب ہے- انسان کی جتنی ضرورتیں مذہب سے تعلق رکھنے والی ہیں وہ سب اس میں بیان کر دی گئی ہیں اگر اس کے بعض پارے یا حصے غائب ہو گئے ہوتے تو اس کی تعلیم میں ضرور کوئی کمی ہونی چاہئے تھی- اور ترتیب مضمون خراب ہو جانی چاہئے تھی- مگر نہ اس کی تعلیم میں کوئی نقص ہے اور نہ ترتیب میں خرابی- جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ غائب نہیں ہوا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں- قرآن نے دعویٰ کیا اور چیلنج دیا ہے کہ اس میں ساری اخلاقی اور روحانی ضروریات موجود ہیں- لیکن اگر اس کا کوئی حصہ غائب ہوا ہوتا تو ضرور تھا کہ بعض ضروری اخلاقی یا روحانی امور کے متعلق اس میں کوئی ارشاد نہ ملتا- لیکن ایسا نہیں ہے- اس میں ہر ضرورت روحانی کا علاج موجود ہے- اور اگر یہ سمجھا جائے کہ قرآن کریم کے ایک حصہ کے غائب ہو جانے کے باوجود اس کے مطالب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی- تو پھر تو جن لوگوں نے اس میں کمی کی ہے وہ حق بجانب تھے کہ انہوں نے ایسے لغو حصہ کو نکال دیا جس کی موجودگی نعوذ باللہ من ذلک قرآن کریم کے حسن میں کمی کر رہی تھی- اگر وہ موجود رہتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ اس حصہ کا کیا فائدہ ہے اور اسے قرآن کریم میں کیوں رکھا گیا ہے- مجھے اس عقیدہ پر ایک واقعہ یاد آگیا- میں چھوٹا سا تھا کہ ایک دن آدھی رات کے وقت کچھ شور ہوا- اور لوگ جاگ پڑے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھو کیا بات ہے- وہ ہنستا ہوا واپس آیا اور بتایا کہ ایک دائی بچہ جنا کر واپس آرہی تھی کہ نانک فقیر اسے مل گیا- اور اس نے اس کو مارنا شروع کر دیا- اس نے چیخنا چلانا شروع کیا اور لوگ جمع ہو گئے- جب انہوں نے نانک سے پوچھا کہ تو اسے کیوں مار رہا ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرے سرین کاٹ کر لے آئی ہے اس لئے اسے مار رہا ہوں- لوگوں نے اسے کہا کہ تیرے سرین تو سلامت ہیں انہیں تو کسی نے نہیں کاٹا- تو حیران ہو کر کہنے لگا- اچھا- اور دائی کو چھوڑ کر چلا گیا- یہی حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کریم میں تغیر کے قائل ہیں- وہ غور نہیں کرتے کہ قرآن کریم آج بھی ایک مکمل کتاب ہے اگر اس کا کوئی حصہ غائب ہو گیا ہوتا تو اس کے کمال میں نقص آ جاتا-