انوارالعلوم (جلد 10) — Page 132
۱۳۲ تھے- ان کو آپ نے خدا تعالیٰ کی صفت قیوم سے جواب دیا- فرمایا خدا تعالیٰ کی صفات چاہتی ہیں کہ ان میں تعطل نہ ہو بلکہ وہ ہمیشہ جاری رہیں- قیوم کے معنی ہیں قائم رکھنے والا- اور یہ صفت تمام صفات پر حاوی ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں تعطل نہیں ہو سکتا- آپ نے جو اصل پیش کیا اور جو تھیوری بیان کی ہے وہ باقی دنیا سے مختلف ہے- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فلاں وقت سے دنیا کو پیدا کیا- گویا اس سے قبل خدا بے کار تھا- اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے گویا وہ خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ دونوں باتیں غلط ہیں- یہ ماننا بھی کہ کسی وقت خدا کی صفات میں تعطل تھا خدا تعالیٰ کی صفت قیوم کے خلاف ہے- اسی طرح یہ کہنا بھی کہ جب سے خدا تعالیٰ ہے تبھی سے دنیا چلی آ رہی ہے، خدا کی صفات کے خلاف ہے- شائد بعض لوگ کہیں کہ دونوں باتیں کس طرح غلط ہو سکتی ہیں دونوں میں سے ایک نہ ایک تو صحیح ہونی چاہئے- لیکن یہ ان کا خیال مادیات پر قیاس کرنے کے سبب سے ہوگا- اصل میں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو عقل انسانی سے بالا ہوتی ہیں- اور عقل ان کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی- دنیا کا پیدا ہونا چونکہ انسانوں، جمادات بلکہ ذرات کی پیدائش سے بھی پہلے کا واقعہ ہے اس لئے انسانی عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی- جو دو عقیدے لوگوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں ان پر غور کر کے دیکھ لو کہ دونوں بالبداہت غلط نظر آتے ہیں- اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جب سے خدا ہے اسی وقت سے دنیا کا سلسلہ ہے تو پھر اسے دنیا کو بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ماننا پڑے گا اور اگر کوئی یہ کہے کہ پیدائش کا سلسلہ کروڑوں یا اربوں سالوں میں محدود ہے تو پھر اسے یہ بھی ماننا پڑے گا- کہ خدا تعالیٰ ازل سے نکما تھا صرف چند کروڑ یا چند ارب سال سے وہ خالق بنا- اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں- پس صحیح یہی ہے کہ اس امر کی پوری حقیقت کو انسان پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتا- اور سچائی ان دونوں دعوؤں کے درمیان درمیان میں ہے یہ مسئلہ بھی اسی طرح محیر العقول ہے جس طرح کہ زمانہ اور جگہ کا مسئلہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کو محدود یا غیر محدود ماننا دونوں ہی عقل کے خلاف نظر آتے ہیں- حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس بحث کا یوں فیصلہ فرمایا ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت کبھی معطل ہوئی اور نہ دنیا خدا کے ساتھ چلی آ رہی ہے اور صداقت ان دونوں امور کے درمیان ہے- اور اس کی تشریح آپ نے یہ فرمائی ہے کہ