انوارالعلوم (جلد 10) — Page 616
۶۱۶ برابر نمائندگی کا مطالبہ کریں- پھر ایک اور بھی سوال ہے اور وہ یہ کہ اگر کچھ عرصہ کے بعد مسلمان مشترک انتخاب کو قبول کر لیں تو موجودہ مسودہ میں وہ کونسی شق ہے جو اس امر کا دروازہ کھلا رکھتی ہے کہ اس وقت انہیں اپنی تعداد کے مطابق حق مل جائے گا- محض کمیٹی کے ذہنی خیالات تو اس وقت مسلمانوں کو نفع نہیں پہنچا سکیں گے- غلطی کے ازالہ کی صورتیں کمیٹی کی تجویز کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس امر کو لیتا ہوں کہ اب اس غلطی کا ازالہ کس طرح ہو سکتا ہے-: (۱) سب سے اول تو میرے نزدیک کمیٹی کے مسلمان ممبروں کا فرض ہے کہ جب انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ مسلمان اکثریت ان کی اس تجویز کے مخالف ہے تو وہ ایک نوٹ لکھ کر کمیشن کو روانہ کر دیں کہ ہماری اس تجویز کو صرف ذاتی رائے قرار دیا جائے- ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان اکثریت اس کے مخالف ہے اور وہ مسلمانوں کے لئے ان کے حق کے مطابق نمائندہ کا مطالبہ کرتی ہے- میں بتا چکا ہوں کہ آئین دستور کے مطابق وہ اپنی قوم کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں لیکن اس امر میں وہ قومی رائے کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں- پس اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ان پر واجب ہے- ان کا تقرر گورنمنٹ کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی قوم کی طرف سے ہوا ہے اور اس کے خیالات کے متعلق گورنمنٹ کو اگر غلط فہمی لگے اور وہ اس کا ازالہ نہ کریں تو وہ ایک بہت بڑی اخلاقی ذمہ واری کی ادائیگی سے قاصر رہیں گے- (۲) اگر وہ ایسا نہ کریں تو دوسرے مسلمان ممبران کونسل کو جو اس معاملہ میں رائے عامہ کی تائید میں ہوں ایک میموریل بنا کر اس کی ایک ایک کاپی گورنمنٹ پنجاب سائمن کمیشن اور انڈینسائمن کمیٹی کے پاس بھیج دینی چاہئے کہ اس سوال کے متعلق ہماری رائے میں ہمارے نمائندوں نے ہماری نمائندگی نہیں کی پس اس رائے کو ان کی ذاتی رائے سمجھا جائے- مسلمانوں کے نمائندوں کی کثرت اس تجویز کو ہرگز قبول نہیں کر سکتی- (۳) مختلف سیاسی انجمنیں اور نمائندہ جماعتیں ایسے ریزولیوشن پاس کر کے مذکورہ بالا تینوں جماعتوں کو بجھوا دیں- جن میں کہ مسلمانوں کے خیالات کی اس بارہ میں صحیح ترجمانی ہو- لیکن چونکہ سیاسی انجمنوں کا صحیح طور پر انتخاب نہیں ہوتا اور وہ باوجود اپنے بڑے بڑے ناموں کے