انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 481

۴۸۱ مکمل نظام تیار کر کے جس میں نہ صرف اسلامی حقوق کی حفاظت کر لی گئی ہو، بلکہ دوسرے تمام امور کے متعلق بھی ایک مکمل قانون پیش کیا گیا ہو- آل انڈیا مسلم کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں پیش کرے- اور اگر کل مسلمان متحدہ طور پر اسے منظور کر لیں یا ان کی اکثریت اس کی تائید کرے- تو اس قانون اساسی کو شائع کر دیا جائے- کیونکہ ایک مکمل قانون اساسی جو اثر پیدا کر سکتا ہے وہ محض تنقید نہیں پیدا کر سکتی- نہرو کمیٹی نے جو اس وقت شور پیدا کر دیا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ایک مکمل قانون ہے- پس جب تک ہم بھی نہرو کمیٹی میں مناسباصلاحات کر کے ایک مکمل قانون نہیں پیش کریں گے- اس وقت تک دنیا ہمیں ایک عملیسیاست دان کی حیثیت میں نہیں، بلکہ ایک حاسد تنقید کرنے والے کی شکل میں دیکھے گی- نہرو رپورٹ کے خلاف پروپیگنڈے کی ضرورت ‏ دوسری بات جس کی ہمیں ضرورت ہے یہ ہے کہ ہر شہر اور قصبہ میں جلسے کر کے یہ ریزولیوشن پاس کئے جائیں کہ نہرو کمیٹی کی رپورٹ سے ہم متفق نہیں ہیں اور ان جلسوں کی رپورٹوں کو گورنمنٹ کے پاس بھی بھیجا جائے- کیونکہ تعاون یا عدمتعاون کے سوال سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ نہرو کمیٹی گورنمنٹ کے حلقوں میں ایک خاص جنبش پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے- اور اگر مسلمانوں نے ایک پراثر اور پرزور آواز نہ اٹھائی تو یقیناً گورنمنٹ بھی اور دوسرے لوگ بھی یہی خیال کریں گے کہ مسلمان اس رائے سے متفق ہیں- اور اگر اس غلط خیال کے ماتحت آئندہ نظام حکومت میں بعض ایسی تبدیلیاں کر دی گئیں جو مسلمانوں کے خلاف ہوں تو یقیناً جاری شدہ قوانین میں تبدیلی مشکل ہو جائے گی اور سٹیٹس کوا‘‘(STATUS QUO) کا پرانا مسئلہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں روک بن جائے گا- مسلمانوں کو حالات سے آگاہ کرنے کی ضرورت علاوہ ازیں اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں عام طور پر جلسے کر کے مسلمانوں کو ان کی بہتری اور ان کے فائدہ سے آگاہ کیا جائے نہرو رپورٹ کے حامی ہر جگہ پہنچ کر اپنے خیالات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں- لیکن اس کے مخالفوں میں سے بہت ہی کم ہیں جو عامہالمسلمین کو اس کی خرابیاں بتانے کی طرف متوجہ ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ سیاست کے پیچیدہ مسائل بغیر سمجھائے کے عوام کی سمجھ میں نہیں آ سکتے- مسٹر گاندھی کی ساری طاقت