انوارالعلوم (جلد 10) — Page 479
۴۷۹ ہائیکورٹوں کے جج پانچواں سوال ہائیکورٹ کے ججوں کے متعلق ہے- صوبہ جات کی کاملخوداختیاری کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک ضروری ہے کہ صوبہجات کے ہائیکورٹوں کے جج صوبہ جات ہی کی طرف سے مقرر کئے جائیں اور انہی کی کونسلوں کے فیصلہ پر ان کی علیحدگی وقوع میں آئے- نہرو رپورٹ نے اس کا اختیار گورنر جنرل کو دیا ہے- مگر آئینی گورنر جنرل اپنے وزراء کے مشورے پر کاربند ہونے پر مجبور ہوگا اور مرکزی حکومت کے وزراء تمام کے تمام یا اکثر ہندو ہی ہونگے- پس اگر اس طریق کو جاری کیا گیا تو تمام ہائیکورٹ ہندوؤں کے اختیار میں چلے جائیں گے- ہاں سپریم کورٹ گورنر جنرل کے ساتھ وابستہ ہونا چاہئے- علاوہ ان معاملات کے جو مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں- عام معاملات حکومت کے متعلق بھی ہمارے لئے غور کرنا ضروری ہے- میرا خیال ہے کہ نہرو رپورٹ کے لکھنے والوں نے ان نئی کانسٹی ٹیوشنز (CONSTITUTIONS) کا گہرا مطالعہ نہیں کیا جو جنگ کے بعد نئی حکومتوں نے اپنے لئے تجویز کی ہیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں مزید غور سے نہرو رپورٹ کی تجویز کردہ کانسٹیٹیوشن سے بہتر کانسٹی ٹیوشن تیار ہو سکتی ہے- ریاستوں کا سوال ریاستوں کا سوال بھی ابھی حل نہیں ہوا- نہرو کمیٹی کا تجویز کردہ طریقِ عمل نہ معقول ہے نہ ریاستوں کو منظور ہو سکتا ہے- انگریز تو ریاستوں پر اپنے غلبہ کی وجہ سے حکومت کر رہے تھے- آئندہ نظام حکومت میں ایک حصہ ہندوستان کو دوسرے حصہ ہندوستان پر حکومت کرنے کا اختیار کس طرح ہو سکتا ہے- پس ضروری ہے کہ مزید غور کے بعد ایک ایسا نظام تجویز کیا جائے جو ایک طرف ہندوستان کے اتحاد میں فرق نہ آنے دے- اور دوسری طرف ہندوستان کے بعض حصوں کو دوسرے حصوں کے ماتحت نہ کر دے- میرا خیال ہے کہ اگر ریاستوں کو کامل خود اختیاری حکومت دے کر جس میں وہاں کے باشندوں کے حقوق کی بھی حفاظت کر لی گئی ہو ایک مستقل انڈین امپیریل کانفرنس(INDIANIMPERIALCONFERENCE) کی بنیاد رکھی جائے- اور سینٹ کو اڑا دیا جائے تو موجودہ مشکل کا ایک حل نکل سکتا ہے اس کانفرنس میں صوبہ جات کے نمائندے مجلسیکونسل کے نمائندے اور ریاستوں کے نمائندے ہوں- اور یہ ایسے امور کے متعلق فیصلہ کرے- جو صوبہجات کے باہمی تعلقات یا اہم آل انڈیا (ALLINDIA) معاملات سے