انوارالعلوم (جلد 10) — Page 461
۴۶۱ مسلمانوں کے سامنے مذہب اور قومیت کا سوال یہی سوال اس وقت ہندوستان میں پیدا ہے- مسلمانوں کے سامنے مذہب اور قومیت کا سوال ہے- سیاست کا سوال ہوتا تو وہ یہ سمجھ لیتے کہ رائے ہر معاملہ میں بدلتی رہے گی- لیکن یہاں دو مختلف قومیں اور زبردست قومیں بستی ہیں جن کے مذہب الگ ہیں- اور جن کے تمدن کے اصول الگ ہیں- پس ایک مستقل اکثریت کے مقابلہ میں ایک مستقل اقلیت بن کر رہنے کے لئے وہ کس طرح تیار ہو سکتے ہیں- جب تک کہ ان کے حقوق کی حفاظت کا انتظام نہ ہو جائے- یہاں سیاسی مسائل کا سوال نہیں کہ ہر مسئلہ پر اقلیت اور اکثریت بدلتی چلی جائے گی بلکہ قومی اور مذہبی حقوق کا سوال ہے- یہ کہنا بالکل فضول ہوگا کہ ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چاہئے- کیونکہ اگر یہی بات ہے تو کیوں ہندو ہی مسلمانوں پر اعتبار کر کے انہیں نصف سے زیادہ نشستیں نہیں دے دیتے- اور دوسرے ہمارے سامنے ریاستوں اور سرکاری دفاتر کا تجربہ موجود ہے- وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے آئندہ کے لئے حفاظت کا سامان نہ کرنا قومی خود کشی سے کم نہ ہو گا- غرض مستقل اقلیت اور اکثریت کا سوال ان اصول پر طے نہیں کیا جا سکتا جو بدلنے والی اکثریت اور اقلیت کے سوال کے حل کرنے میں کام آتے ہیں- بلکہ ان اصول پر طے ہوتا ہے کہ جن پر دو مختلف حکومتوں کے باہمی اختلاف طے کئے جاتے ہیں- اور اگر ان حالات میں مسلمان زیادہ نمائندگی مانگتے ہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- آخر ان کے اس دعویٰ کا کیا رد ہے کہ نیابتی حکومتیں اکثریت کے ہاتھ میں ہوتی ہیں- ہم جو یہ قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں کہ حکومت ہند کو ہندو اکثریت کے ہاتھ میں دے دیں تو کیا ہمارا اس قدر حق بھی نہیں کہ ہم مطالبہ کریں کہ قانوناساسی کی کوئی تبدیلی بغیر ہمارے مشورہ کے نہ ہو- قانونِ اَساسی کی تبدیلی اور مسلمان میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ نہرو کمیٹی نے قانون اساسی کی تبدیلی کے لئے ۳/۲ ممبروں کی رائے کی شرط رکھی ہے- اور اگر مسلمانوں کو ان کی تعداد کے برابر بھی ممبریاں مرکزی پارلیمنٹوں میں مل جائیں تو انہیں ۴/۱ نشستیں ملیں گی- جس کے یہ معنی ہیں کہ قانون اساسی اس وقت بھی بدلا جا سکتا ہے کہ جب ایک مسلمان بھی اس کی تائید میں نہ ہو- کیونکہ مسلمان نیابت اگر آبادی کے مطابق ہو تو مسلمان ممبر پچیس (۲۵) فیصدی ہوں گے- اور ہندو پچھتر (۷۵) فیصدی اور