انوارالعلوم (جلد 10) — Page 390
۳۹۰ تسلیم کیا جاتا ہے- کہ اقلیتوں کو خصوصاً جبکہ وہ ممتاز وجود رکھتی ہوں- خاص حفاظت کی ضرورت ہے- اور اگر کوئی اختلاف ہے تو صرف یہ ہے کہ بعض اقوام اس امر کی دعویدار ہیں کہ ان کے ملکوں میں چونکہ اقلیتوں کو اکثریت سے کوئی اختلاف نہیں، اس لئے ان کے ملک میں یہ قانون نہ جاری کیا جائے- لیکن دوسری اقوام کہتی ہیں کہ نہیں- جب ہمارے ملک میں یہ قانون جاری کیا گیا ہے- تو سب اقوام کو اس پر عمل کرنے کا معاہدہ کرنا چاہئے- چنانچہ دیپروٹیکشن آف مائناریٹیز کے صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے-: ‘’لیکن پریزیڈیٹ ولسن (PRESIDENTWILSON) نے اس امر کا کوئی جواب نہ دیا کہ اقلیتوں کی حفاظت کا قانون ان تمام حکومتوں میں جاری ہونا چاہئے جن میں اقلیتیں پائی جاتی ہیں- یہ سوال اب تک بھی بغیر جواب کے پڑا ہے- اور وہ عدممساوات جو ان معاہدات سے پیدا ہوئی ہے- )کہ نئی حکومتوں کو اس کا پابند کیا گیا ہے لیکن پرانی حکومتوں کو نہیں( اس کو بہ نسبت اس اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے جسے ان معاہدات میں جائز قرار دیا گیا ہے، بہت زیادہ بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے’‘- جنگ عظیم کے بعد جن ملکوں میں نئی اقلیتیں آئی ہیں- ان میں سے ایک اٹلی بھی ہے جس سے اقلیتوں والا معاہدہ نہیں لیا گیا- لیکن وہاں جو حال اقلیتوں کا ہے- اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اقلیتوں کو حفاظت کی کس قدر ضرورت ہے- )اور مسلمان بھی اس سے سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ اگر خود حفاظتی کے بغیر انہوں نے ہندؤوں سے سمجھوتا کر لیا تو ان کا کیا انجام ہو گا( اٹلی کو جو نیا علاقہ جنگ کے بعد ملا ہے، اس میں سے کچھ تو وہ ہے جس میں جرمن آبادی پائی جاتی ہے اور کچھ وہ ہے جس میں سرب اور کروٹس پائے جاتے ہیں- ان لوگوں سے اٹلی نے جو ہندوستان سے یقیناً زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے، کیا سلوک کیا ہے- وہ خود سینور میوز لمینی کی ایک گفتگو سے ظاہر ہے- فروری ۱۹۲۶ء کو فرانس کے ایک اخبار کے نمائندہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بیان کیا کہ-: ‘’جب میں نے جنوبی ٹائرال کا معائنہ کیا- )آسٹرین علاقہ جو اب اٹلی کو ملا ہے اور جس میں جرمن نسل کے لوگ بستے ہیں( تو میں نے دیکھا کہ وہاں ہر ایک چیز جرمنی اثر کے ماتحت ہے- گرجہ، سکول، پبلک، کارکن، ریل اور پوسٹ آفس کے افسر سب