انوارالعلوم (جلد 10) — Page 330
۳۳۰ اس وقت ختم نبوت کا سوال نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو گالیاں دی جاتی ہیں ان کا سدباب کیا جائے اور مسلمانوں کو اپنی تمدنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی جائے- مولوی صاحب اور ان کے رفقاء نے اس وقت تو ان تحریکات میں حصہ لینا پسند نہ کیا مگر چار پانچ ماہ کے بعد مولوی صاحب نے ایک ٹریکٹ شائع کیا جو اب تک شائع ہو رہا ہے اور اس میں ان تمدنی تحریکات کو جو میں نے پیش کی تھیں اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا کہ وہ ابتداء ان کی طرف سے پیش ہوئی تھیں- اور اس امر کو مولوی صاحب بالکل دبا گئے ہیں کہ جس وقت وہ تجاویز میری طرف سے پیش ہوئی تھیں تو اس وقت وہ اور ان کے رفقاء ان میں حصہ لینے کے لئے بالکل تیار نہ تھے- مولوی صاحب کے اس رویہ کے مقابلہ میں میرا رویہ جو ان کے بارہ میں رہا ہے وہ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جس وقت مولوی محمد یعقوب صاحب پر جو مولوی محمد علی صاحب کے ہم زلف اور لائٹ اخبار کے ایڈیٹر ہیں مقدمہ چلانے کا خیال گورنمنٹ نے ظاہر کیا تو اس وفد میں جو اس مقدمہ کے واپس لینے کے لئے اوگلوی صاحب کے پیش ہوا ہماری جماعت لاہور کے سیکرٹری حکیم محمد حسین صاحب قریشی بھی شامل تھے- اور میں نے اپنی جماعت کے بعض وکیلوں کو تاکید کی کہ اگر دوسرا فریق منظور کر لے تو وہ اس مقدمہ کی مفت پیروی کریں اور اس کے علاوہ گورنمنٹ سے پروٹسٹ کیا کہ اس کا مولوی محمد یعقوب صاحب پر مقدمہ چلانا درست نہیں ہے اور یہ کہ اسے چاہئے کہ انہیں آزاد کر دے- بہرحال ہر شخص اپنی طینت کے مطابق معاملہ کرتا ہے- مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اپنے درجہ اخلاق کے مطابق سلوک کرنے پر مجبور ہیں اور میں اپنے درجہ اخلاق کے مطابق سلوک کرنے پر مجبور ہوں اس میں کوئی شکوہ کی وجہ نہیں ہے- مگر جس امر کی طرف میں اس وقت توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء نے سترہ جون کے جلسوں کی مخالفت کرنے میں دیانتداری سے کام نہیں لیا اور یہ کہ انہوں نے مسلمان پبلک سے حقیقت کو چھپایا ہے اور جو وجہ مخالفت کی وہ ظاہر کرتے رہے ہیں وہ درست نہ تھی اور وہ خوب جانتے تھے کہ وہ پبلک کو دھوکا دے رہے ہیں- اخبار ‘’پیغام صلح’‘ نے ان جلسوں کی مخالفت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان جلسوں کے متعلق یہ بیان کیا گیا تھا کہ وہ خاتم النبین کی تائید میں ہیں- اور چونکہ نعوذ باللہ میں اور