انوارالعلوم (جلد 10) — Page 301
۳۰۱ کھڑے ہو گئے کہ خواہ کچھ ہو جائے- مگر ہم اسے جانے نہ دیں گے- انہوں نے کہا ابھی معاہدہ نہیں ہوا- اس لئے مکہ والوں کا کوئی حق نہیں کہ اس کی واپسی کا مطالبہ کریں- مگر چونکہ رسولکریم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ فرما چکے تھے کہ ہر مرد جو مکہ سے آئے گا، اسے واپس کیا جائے گا- آپ نے اسے واپس کئے جانے کا حکم دے دیا اور مسلمانوں کے جذبات کو وفائے عہد پر قربان کر دیا- مال کی قربانی آپ کی مالی قربانی کے لئے کسی خاص واقعہ کی مثال دینے کی ضرورت نہیں- ہر اک شخص جانتا ہے کہ جب سے آپ کے پاس مال آنا شروع ہوا، آپ نے اسے قربان کرنا شروع کر دیا- چنانچہ سب سے پہلا مال آپ کو حضرت خدیجہؓ سے ملا اور آپ نے اسے فوراً غرباء کی امداد کے لئے تقسیم کر دیا- اس کے بعد مدینہ میں آپ بادشاہ ہوئے تھے تو باوجود بادشاہ ہونے کے آپ نے حقوق نہ لئے اور سادہ زندگی میں عمر بسر کی- اور جس قدر ممکن ہو سکا غرباء کی خبر گیری کی- حتیٰ کہ آپ نے کھانا تک پیٹ بھر کر نہ کھایا- صحابہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ آپ عام طور پر اپنے مال خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیتے ہیں تو انصار نے جو اپنے آپ کو اہل وطن ہونے کی وجہ سے صاحب خانہ خیال کرتے تھے، یہ انتظام کیا کہ کھانا آپ کے گھر میں بطور ہدیہ بھجوا دیا کرتے- لیکن آپ اسے بھی اکثر مہمانوں میں تقسیم کر دیتے یا ان غرباء میں جو دین کی تعلیم کے لئے مسجد میں بیٹھے رہتے تھے- یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوئے تو اس دن بھی آپ کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا اور یہ جو حدیثوں میں آتا ہے کہ ماترکناہ صدقہ ۳۸؎اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ نے کوئی مال چھوڑا تھا اور اسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا، بلکہ اس کا یہ مطلب تھا کہ ہمارے گھر میں اپنا مال کوئی نہیں ہے جو کچھ ہے وہ صدقہ کا مال ہے- پس اس کامالک بیت المال ہے نہ کہ ہمارے گھر کے لوگ- دوسرے معنی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں- کیونکہ اپنے سارے مال کی وصیت قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے- پس اس حدیث کے یہ معنی کرنے کہ آپ نے اپنا ذاتی مال کوئی چھوڑا تھا اور اسے سب کا سب صدقہ قرار دیا تھا درست نہیں- غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی مالی قربانی کا ایک بے نظیر نمونہ تھی- عزت کی قربانی عزت کی قربانی بہت بڑی قربانی ہے اور بہت کم لوگ اس کی جرات رکھتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی