انوارالعلوم (جلد 10) — Page 277
۲۷۷ جب حضرت حمزہؓ گھر آئے تو کسی بات کا بہانہ ڈھونڈ کر اس نے طعنہ دیا کہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو- دیکھتے نہیں تمہارے بھتیجے کو ابوجہل نے کس طرح دکھ دیا ہے- حضرت ہمزہؓ شکار کے شائق تھے اور ادھر ادھر پھرنے میں وقت گذارتے تھے- اور حالات سے زیادہ واقف نہ تھے- لونڈی سے یہ بات سن کر ان کا دل اندر ہی اندر گھائل ہو گیا- واقع کی تفصیل سنی اور غیرت سے بے تاب ہو کر باہر نکل آئے- مجلس کفار میں آئے- ہاتھ میں تیر کمان تھا- لونڈی نے کچھ اس طرح واقع بیان کیا تھا کہ درد اور غصہ دونوں جذبات بے طرح۱۹؎ جوش میں تھے- اور بات کرنے کی طاقت نہ تھی- مجلس میں آ کر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور کمان پر سہارا لگا لیا- بار بار بات کرنا چاہتے تھے مگر شدت غم سے منہ سے بات نہ نکلتی تھی- اسی طرح کھڑے تھے کہ ابوجہل کی نگاہ پڑ گئی اور وہ بولا خیر ہے حمزہ تم تو اس طرح کھڑے ہو جس طرح انسان لڑائی پر آمادہ ہوتا ہے- اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ ٹوٹ پڑے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ ظالم تیرے ظلموں کی کوئی انتہا بھی ہے تو نے محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم ( کو حد سے بڑھ کر ستایا ہے- لے میں بھی مسلمان ہوتا ہوں اگر طاقت ہے تو آ مجھ سے لڑ لے- ابوجہل بھی مکہ کا سردار تھا، اٹھ کر چمٹ گیا- لیکن اردگرد کے لوگوں نے دیکھا کہ یہ جھگڑا مکہ کو بھسم کر دے گا، صلح کرا دی- اور اس دن سے حضرت حمزہ کو اسلام کی طرف توجہ ہو گئی- ایک دو دن کے غور کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اسلام سچا ہے اور اپنے ایمان کا اعلان کر دیا- اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے اور وہاں سے زخمی ہو کر واپس آئے تو ایک غلام نے ہی آپ سے ہمدردی کی اور آپ کی حالت کو دیکھ کر روتا رہا- بات یہ ہے کہ سب غلام جانتے تھے کہ آپ ان کو آزاد کرانے کے لئے آئے ہیں نہ کہ ان کی غلامی کی زنجیروں کو اور مضبوط کرنے کے لئے- اس لئے وہ سب آپ سے محبت رکھتے تھے اور آپ سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان کا شروع زمانہ میں ایمان لانا اور سخت تکالیف اٹھانا اور آخر تک ساتھ دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ مکہ کے تمام غلام اور تمام لونڈیاں اس امر کو سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم غلاموں کو آزاد کرانے والی ہے- تبھی ان میں سے سب کے سب جو سمجھدار تھے آپ پر ایمان لائے- یا اگر اس کی جرات نہ کر سکے تو آپ کی مدد کرتے رہے اور آپ سے اظہار ہمدردی کرتے رہے اور کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن لوگوں کا معاملہ ہے وہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غلاموں کا آزاد کرانے والا قرار دیتے ہیں اور جو لوگ نہ