انوارالعلوم (جلد 10) — Page 276
۲۷۶ اسلام لانے سے پہلے انہیں اسلام کی وجہ سے تکلیف دیا کرتے تھے مگر یہ اپنے اسلام پر قائم رہیں- زنیزہؓ زنیزہ بھی ایک کنیز تھیں اور ابتدائی ایام میں ہی ایمان لائیں- حضرت عمرؓ اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں ستایا کرتے- ابوجہل نے مار مار کر ان کی آنکھیں پھوڑ دیں- مگر باوجود اس کے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار نہ کیا- ابوجہل اسے دیکھ کر غصہ سے کہا کرتا تھا کہ کیا ہم اتنے حقیر ہو گئے ہیں کہ زنیزہ نے تو سچا دین مان لیا اور ہم نے نہ مانا- نہدیہؓ اورام عبیس ؓ اسی طرح نہدیہ اورام عبیس دو کنیزیں تھیں جو مکی زندگی میں اسلام لائیں اور دونوں نے اسلام لانے کی وجہ سے سخت مصائب برداشت کئے- عامرؓ عامر بن فہیرہ بھی ایک غلام تھے- جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے آزاد کر دیا- انہیں بھی اسلام لانے کی وجہ سے سخت تکالیف دی گئیں- حمامہؓ حمامہ بلالؓ کی والدہ تھیں- یہ بھی اسلام لائیں اور اسلام کی خاطر انہوں نے تکالیف اٹھائیں- ان کے علاوہ اور غلام اور لونڈیاں بھی تھیں جو آپ پر ایمان لائیں اور اس کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیفیں اٹھائیں- غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی سات سالوں میں کل چالیس افراد نے آپ کو مانا- جن میں سے کم سے کم ۱۴، ۱۵ غلام تھے- اور انہوں نے آزاد لوگوں سے زیادہ تکالیف اٹھائیں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلامی قائم کرنے والے ہوتے تو یہ لوگ آپ کے دشمن ہوتے نہ کہ آپ پر ایمان لاتے- غیر مسلم غلاموں کی ہمدردی علاوہ ان غلاموں اور لونڈیوں کے جو آپ پر ایمان لائے- مکہ کے اکثر غلام اور لونڈیاں آپ سے ہمدردی رکھتے تھے- چنانچہ حضرت حمزہؓ کے ایمان لانے کی موجب بھی ان کی ایک غیر مسلمہ لونڈی ہی تھی- جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ ابوجہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور مارنے کے لئے اٹھا اور آپ کو بہت تکلیف دی- حضرت حمزہؓ جو رسول کریم کے چچا تھے اور ابھی ایمان نہ لائے تھے ان کی ایک لونڈی دیکھ رہی تھی- اسے بہت صدمہ ہوا اور سارا دن کڑھتی رہی-