انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 201

۲۰۱ مندرجہ ذیل حقیقت پیش کی ہے- آپ فرماتے ہیں کہ-: انسان کا مقصد نجات نہیں بلکہ فلاح ہے- نجات کے معنی تو بچ جانے کے ہیں اور بچ جانا عدم پر دلالت کرتا ہے- اور عدم مقصد نہیں ہو سکتا- پس انسان کا مقصد فلاح ہے اور فلاح کچھ کھونے کا نام نہیں بلکہ کچھ حاصل کرنے کا نام ہے- اور جب حاصل کرنے کا نام فلاح ہے تو ضروری ہے کہ اگلے جہان میں احساس اور زیادہ تیز ہوں تا کہ زیادہ حاصل کر سکیں- یہی وجہ ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے- ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیہ ۳۴؎کہ اس دنیا میں تو چار بنیادی صفات کا ظہور انسان کے لئے ہوتا ہے- اگلے جہان میں عرش آٹھ بنیادی صفات کا ظہور ہوگا- یعنی اس دنیا کی نسبت اگلے جہان کی تجلیات بہت بڑھ کر ہوں گی- پھر آپ نے ثابت کیا کہ نجات یا فلاح دائمی ہیں اور بتایا کہ عمل کا بدلہ کام کرنے والے کی نیت اور جزا دینے والے کی طاقت پر ہوتا ہے- ان دونوں باتوں کو مدنظر رکھ کر اور انسان کی فطرت پر نظر کرتے ہوئے جو فنا سے بھاگتی اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنا چاہتی ہے، فلاح کی ہمیشگی ثابت ہے- اسی طرح آپ نے یہ بھی بتایا کہ جزا و سزا نہ صرف روحانی ہیں اور نہ صرف جسمانی- اور نہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک جسمانی ہو اور دوسری روحانی- کیونکہ اعمال نیک و بد کا مرکز ایک ہی ہوتا ہے- اس جزا و سزا کا طریق بھی ایک ہی ہونا چاہئے- ہاں چونکہ کامل احساس اندرونی و بیرونی جذبات کے ملنے سے ہوتا ہے اس لئے جزا و سزا اندرونی اور بیرونی دونوں قسم کی حسوں پر مشتمل ہونگی اور چونکہ وہ عالم زیادہ تیز احساسات کی جگہ ہوگا، اس لئے وہاں کی جزا و سزا کے مطابق اور ضروریات کے لحاظ سے ایک نیا جسم انسان کو ملے گا- وہاں بے شک یہ جسم نہ ہوگا- مگر ہوگا ضرور- یعنی نیا جسم دیا جائے گا- جو یہاں کے لحاظ سے روحانی ہوگا- یہاں کی عبادتیں وہاں مختلف اشیاء کی شکل میں نظر آئیں گی- ان کی ظاہری شکل تو ہوگی مگر باوجود اس کے وہ اس دنیا کے مادہ سے نہ بنی ہوئی ہوں گی- گویا وہاں پھل اور دودھ اور شہد اور مکانات تو ہوں گے مگر اس دنیا کی قسم کے نہیں بلکہ ایک لطیف مادہ کے جنہیں لطافت کے سبب سے اس دنیا کے مقابلہ میں روحانی جسم والا کہا جا سکتا ہے- لیکن سزا و جزا کے متعلق آپ نے ایک فرق بیان فرمایا اور وہ یہ کہ دوزخ کی سزا تو