انوارالعلوم (جلد 10) — Page 159
۱۵۹ بہادر ہے- اس زمانہ میں بہادر لوگ اپنا کوئی نشان قرار دے کر اپنے جسم پر گدواتے تھے- اس نے اپنا نشان شیر قرار دیا اور اسے بازو پر گدوانا چاہا- وہ گودنے والے کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میرے بازو پر شیر کا نشان گود دو- جب وہ گودنے لگا اور سوئی چبھوئی تو اسے درد ہوئی اور اس نے پوچھا کیا چیز گودنے لگے ہو- گودنے والے نے کہا- شیر کا کان بنانے لگا ہوں- اس نے کہا اگر کان نہ ہو تو کیا اس کے بغیر شیر شیر نہیں رہتا؟ گودنے والے نے کہا کہ نہیں- پھر بھی شیر ہی رہتا ہے- اس نے کہا اچھا تب کان کو چھوڑ دو- اسے بھی پہلے بہانہ سے چھڑا دیا- اسی طرح جو حصہ وہ گودنے لگتا وہی چھڑا دیتا- آخر گودنے والے نے کہا کہ اب تم گھر جاؤ- ایک ایک کر کے سب حصے ہی ختم ہو گئے ہیں- یہی حال قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ ماننے والوں کا تھا- گیارہ سو آیات انہوں نے منسوخ قرار دے دیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ قرآن کریم کا ایک لفظ بھی منسوخ نہیں ہے- اور جن آیات کو منسوخ کہا جاتا تھا- ان کے نہایت لطیف معانی اور مطالب بیان فرمائے- (۱۰) ایک گر آپ نے قرآن کریم کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی سنت آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے- آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی سائنس مخالف نہیں ہوتی- کیونکہ سائنس بعض اوقات خود غلط بات پیش کرتی ہے اور اس کی غلطی ثابت ہو جاتی ہے- بلکہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی سنت اس کے کلام کے خلاف نہیں ہوتی- ہاں یہ ممکن ہے کہ جس طرح کلام الہی کے سمجھنے میں لوگ غلطی کر جاتے ہیں اسی طرح فعل الہی کے سمجھنے میں بھی غلطی کر جائیں- (۱۱) آپ نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان کے الفاظ مترادف نہیں ہوتے- بلکہ اس کے حروف بھی اپنے اندر مطالب رکھتے ہیں- پس ہمیشہ معانی پر غور کرتے ہوئے اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہئے جو اس قسم کے دوسرے الفاظ میں پائے جاتے ہیں تاکہ وہ زائد بات ذہن سے غائب نہ ہو جائے جو ایک خاص لفظ کے چننے میں اللہ تعالیٰٰ نے مدنظر رکھی تھی- (۱۲) قرآن کریم کی سورتیں بمنزلہ اعضاء انسانی کے ہیں- جو ایک دوسرے سے مل کر اور ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے کمال ظاہر کرتی ہیں آپ نے فرمایا- کسی بات کو سمجھنا ہو تو سارے قرآن پر نظر ڈالنی چاہئے- ایک ایک حصہ کو الگ الگ نہیں لینا چاہئے- (۱۳) تیرھویں غلطی لوگوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ سمجھتے تھے قرآن کریم احادیث کے