انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 102

۱۰۲ چاہتے بلکہ اپنا مال بچانا چاہتے ہیں اپنی قوم کو بچانا چاہتے ہیں۔چاہئے تو یہ کہ جس طرح ہندو مسلمانوں سے سات سو سال تک کھانے پینے کی چیزیں نہیں لیتے رہے اسی طرح مسلمان بھی سات سو سال تک ان سے نہ لیں اور ہندو مسلمانوں سے لیتے رہیں تب مساوات ہوگی مگر ہم یہ کہتے ہیں جس طرح ہندو مسلمانوں سے نہیں خریدتے اسی طرح مسلمان بھی نہ خریدیں۔اس طرح ایک لاکھ مسلمانوں کے لئے کاروبار نکل آئے گا اور اتنے خاندان چل سکیں گے۔ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس تحریک پر عمل کرنا چاہئے اور دوسرے لوگوں سے کرانا چاہئے کہ ہمارے فائدہ کی بات نہیں اگر یہ عمل کریں گے تو ہم پر احسان نہیں کریں گے انہیں کو فائدہ پہنچے گا۔ایک اور بات جو اس سال کے پروگرام میں رکھنی چاہے وہ مسلمانوں کا آپس میں تعاون ہے یعنی جہاں مسلمان سودا بیچنے والے ہوں وہاں ان سے خریدا جائے۔میں نے دیکھا ہے اس سال کی تحریک کے ماتحت سینکڑوں نہیں ہزاروں دکانیں نکلیں۔ایک دوست نے بتایا ایک جگہ مسلمانوں کے دکانیں کھولنے کی وجہ سے ۳۵ ہندو دکانوں کا دیوالہ نکل گیا اور ایک کارخانہ فیل ہو گیا جو ایک مسلمان نے خرید لیا۔ایک جگہ کے دوست سے معلوم ہوا کہ ایک شہر میں ایک دکاندار کو جب معلوم ہوا کہ وہ احمدی ہے تو اس نے اُٹھ کر اس سے مصافحہ کیا اور کہا کہ آپ کی جماعت کی مہربانی ہے کہ ہماری دکانیں بھی اب چلنے گئی ہیں پہلے کچھ بِکری نہ ہوتی تھی مگر اب خوب ہوتی ہے۔پس مسلمان دکانداروں کی طرف مسلمانوں کو توجہ کرنی چاہئے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوؤں کا بائیکاٹ کیا جائے بائیکاٹ کرنا ناجائز ہے اور بائیکاٹ کے یہ معنی ہیں کہ کسی صورت میں بھی ان سے کچھ نہیں خریدنا۔مگر جہاں مسلمان دکاندار نہ ہوں وہاں ہندووں سے ضرورت کی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں یا جو چیزیں مسلمانوں کے پاس نہ ہوں وہ ہندوؤں سے لی جاسکتی ہیں۔مگر تعجب ہے مسلمانوں کو بائیکاٹ کا لفظ ایساپسند آیا ہوا ہے کہ بائیکاٹ کرتے تو نہیں مگر کہتے ہیں کہ ہم نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔میں جب اس سال شملہ گیاتو گورنر صاحب پنجاب سے میرا ملنے کا ارادہ نہ تھا مگر چیف سیکرٹری صاحب گورنر پنجاب کی چٹھی آئی کہ واپس جانے سے پہلے گورنر صاحب سے ضرور ملتے جائیں۔میں جب ان سے ملنے کے لئے گیا تو انہوں نے چُھوٹتے ہی تحریک چُھوت چھات کے متعلق گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ آپ کی جماعت نے بائیکاٹ کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔میں نے بتایا کہ یہ رپورٹ آپ کو غلط ملی ہے نہ ہم نے بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا اور نہ ہماری جماعت نے