انوارالعلوم (جلد 10) — Page 103
۱۰۳ بائیکاٹ کی تحریک کی۔ہم نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ ہے کہ ہندو جو چیزیں مسلمانوں سے نہیں خریدتے وہ مسلمان بھی ہندووں کی بجائے مسلمانوں سے خریدیں اور مسلمان اپنی دکانیں نکالیں تا کہ تجارت کا کام بالکل ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے۔آخر ایک لمبی گفتگو کے بعد گورنر صاحب کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ بائیکاٹ نہیں ہے اور اس تحریک میں کوئی حرج نہیں۔پس یاد رکھو بائیکاٹ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے یہ نہ شرعاً جائز ہے نہ قانوناً نہ عدلاً اور جب کہ مسلمان بائیکاٹ کرہی نہیں رہے تو اس لفظ کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔جو کچھ کرنا چاہے وہ اپنے بھائیوں کا تعاون اور امدادہے اور اس سے کوئی گورنمنٹ روک نہیں سکتی۔دوسری بات یہ ہے کہ جہاں جہاں مسلمانوں نے کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں نکالیں وہاں ہندوؤں نے شور مچا دیا کہ مسلمان ہندوؤں سے سودا نہیں خریدتے اور گورنمنٹ کو لکھا کہ اس کم کی تحریک جاری کر کے منافرت پیدا کی جارہی ہے۔میرے سامنے جہاں کے لوگوں نے یہ بات پیش کی میں نے انہیں کہا تم بھی کیوں اسی قسم کی درخواستیں گورنمنٹ کو نہیں ہے کہ ہندو ہماری دکانوں سے کچھ نہیں خریدتے آخر میں گورنمنٹ اس کا کوئی جواب دے گی۔اگر وہ یہ جواب دے کہ ہندو چونکہ مسلمانوں کے ہاتھ کی اشیاء نہیں کھاتے اس لئے نہیں خریدتے۔تو تم بھی کی جواب دے سکتے ہو کہ ہم بھی ہندوؤں کے ہاتھ کی اشیاء نہیں کھاتے اس لئے نہیں خریدتے تو جہاں مسلمانوں کی دکانیں تھیں وہ اس قسم کی درخواستیں حکام کو ضرور بھیجیں اس طرح ہندوؤں کی درخواستوں کا جواب خودبخود ہو جائے گا۔تجارت میں ترقی کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے کہ ہماری جماعت فیصلہ کرے کہ فلاں چیزانی جماعت کے لوگوں کی ساختہ ہی لیں گے۔مثلا ً جرابیں اپنی جماعت کی بنائی ہوئی یا ان لوگوں کی بنائی ہوئی جو اس تحریک میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور ہمارے ساتھ تعاون کریں گے ان سے لیں گے۔تین سال تک اگر یہی طریق جاری رکھا جائے تو اس چیز کے فروخت کرنے والے تاجر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور پھر بغیر خاص مدد کے دوسروں کو زِک دے سکتے ہیں۔ایک بات خاص طور پر قابل ذکر یہ ہے کہ ابھی تک مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے دشمن ہیں حالانکہ خدا تعالی جانتا ہے ہم سے زیادہ مسلمانوں کا خیرخواہ اور کوئی نہیں ملے گا۔جس طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنی جماعت کو چلایا ہے اور جو روح اس میں پیدا کی ہے اس کی وجہ سے ہم مسلمانوں کے اتنے خیر خواہ ہیں کہ وہ