انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 77

۷۷ شخص کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہیں جو صحیح طور پر راہنمائی کرے۔قومی علیحدگی کسی وقت بھی ہمارے نظر نہ تھی مگر مسلمانوں کو اس بات کا احساس نہ تھا کہ تمدنی اور سیاسی لحاظ سے مل کر کام کرنے میں ہی کامیابی ہے اور اب ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے۔پچھلے دنوں کی مسلمان لیڈر مجھے ملے جنہوں نے کہا آپ نے پہلے کیوں مسلمانوں کے متعلق اس قسم کا کام نہیں کیا اگر آپ ایسا کرتے تو ہم کبھی احمدیت کی مخالفت نہ کرتے۔میں نے کہا ہم تو شروع سے ہی اس طریق پر کام کرنے کے لئے کہتے چلے آئے ہیں مگر اس وقت آپ لوگوں کے کان ہماری یہ بات سننے کے لئے تیار نہ تھے۔اب چونکہ آپ لوگوں کو بھی یہ محسوس ہو گیا ہے کہ مل کر کام کرنا چاہے اس لئے ہماری آواز آپ کو سنائی دینے گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں مسلمانوں میں ایسی بیداری ہو گئی ہے کہ باوجود مذہبی لحاظ سے ہمارے سخت خلاف ہونے کے ایک طبقہ ہمارے مشترک مذہبی، سیاسی اور تمدنی معاملات میں مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔اس بیداری کو جاری رکھنے میں چونکہ مسلمانوں اور اسلام کا بہت فائدہ ہے اسی وجہ سے اس سال میں نے شملہ کا سفر اختیار کیا جس کے دو بہت بڑے فائدے ہوئے۔ایک تو یہ کہ مذہبی لحاظ سے اس مسودہ میں مشورہ دینے کا موقع میسر آیا جو گورنمنٹ نے مذہب کے بزرگوں کی ہتک کے انسداد کے متعلق پیش کیا اسمبلی کے ممبروں کو اس کے متعلق کئی باتیں میں نے بتائیں۔چنانچہ مسودہ میں بعض تبدیلیاں میرے مشورہ کے مطابق ہو گئیں۔بعض نہ بھی ہوئیں مگر بہت بڑی کامیابی یہ تھی کہ بڑے بڑے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ اسلام کے لئے احمدی جماعت سب کچھ قربان کر کے کام کرنے کے لئے تیار ہے مسز نائیڈو جو بہت مشہور عورت لیڈر ہیں انہوں نے ذکر کیامیں ایک موقع پر مسٹر محمد علی جناح سے ملی تو انہوں نے کہا احمدی جماعت میں کام کرنے کی عجیب روح ہے اسمبلی میں مسودہ پیش ہوتا ہے مگر اس کے متعلق بہت سے اسمبلی کے ممبروں کو اتنی فکر نہیں جتنی ان لوگوں کو ہے ان کے آدمی نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن ہر وقت ہمارے پاس پہنچ جاتے اور اپنا مشورہ پیش کرتے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب مجھے مسودہ ملا تو میں نے راتوں رات آدمیوں کو اسمبلی کے بعض ممبروں کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں اس کے متعلق ضروری باتیں بتاؤ۔ٍ اس اثناء میں شملہ میں اتحاد کانفرنس منعقد ہوئی جس کا مجھے بھی ممبر بنایا گیا اس طرح مجھے ہندو مسلمان لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑا جس سے کئی فائدے ہوئے۔ایک تو یہ کہ ہندو مسلمان لیڈروں سے واقفیت پیدا ہو گئی جس سے آئند ہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔دوسرے ان کی شخصیتوں کا