انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 76

۷۶ آخر جب ایڈیٹر ’مسلم آوٹ لک‘‘ کو سزا دی گئی تو میں نے ۲۲- جولائی کو ہر جگہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے جلسہ کرنے کی تحریک کی۔مجھے خیال تھا کہ عام طور پر مسلمان اس تحریک کی مخالفت کریں گے اور جلسہ نہیں ہونے دیں گے اس وجہ سے میں تحریک لکھ لینے کے بعد اپنے مضمون میں سے اسے کاٹنے لگا تھا لیکن پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں نے اپنی طرف سے تو یہ تحریک لکھی نہیں خدا تعالی نے مجھ سے لکھائی ہے وہی اس کو کامیاب بنانے کا سامان کرے گا۔پھر اگرچہ اس کی مخالفت کی گئی مگر باوجود اس کے سارے ہندوستان میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اس تحریک کے ماتحت ۲۲ جولائی کو جلسے کئے گئے۔مسلمانوں میں خاص بیداری پیدا ہو گئی اور اخباروں نے لکھا کہ ایسا شاندار مظاہرہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔اس سے مسلمانوں کو محسوس ہوگیا کہ اگر وہ مل کر آواز اٹھائیں تو وہ پُر شوکت اور پُرہیبت ہو سکتی ہے۔اسی دوران میں اس کام کو مضبوط بنانے کے لئے انجمن ترقی اسلام کی بنیاد رکھی گئی تاکہ اس کے ذریعہ ایسے لوگوں کو جمع کیا جائے جو عام اسلامی کاموں میں مدد دے سکیں چنانچہ مختلف فرقوں کے ایسے ایک ہزار آدمیوں نے اس کام کے لئے اپنے آپ کو نہیں کیا ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو ہمارے سلسلہ سے سخت مخالفت رکھتے تھے۔حتی کہ کسی احمدی سے مصافحہ کرنا بھی جائز نہ سمجھتے تھے۔چنانچہ یو۔پی کے ایک پِیر صاحب نے لکھا کہ میں آپ کے سلسلہ کے سخت خلاف تھا اور کسی احمدی سے بات کرنا بھی جائز نہ سمجھتا تھا مگر اب سیاسی اور تمدنی معاملات میں کلّی طور پر اپنے آپ کو آپ کے اختیار میں دیتا ہوں۔غرض ہر طبقہ کے لوگ اس انجمن میں داخل ہوئے۔ان میں روساء بھی ہیں، علماء بھی ہیں۔پِیر بھی ہیں، انگریزی خوان بھی ہیں اور ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس تحریک کو اس قدر کامیابی ہوئی ہے کہ پہلا اشتہار دس ہزار کی تعداد میں مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا تھا مگر اس میں سے کبھی بچ رہا لیکن آخری اشتہار اس سلسلہ کا جو شائع ہوا وہ ۷ ہزار شائع کیا گیا اور پہلے ہی دن ختم ہو گیا۔اگر اس انتظام کو اور مضبوط بنایا جائے تو دس لاکھ اشتہار بھی پورے نہ ہو سکیں اور ایک ماہ میں تمام مسلمانوں کو بیدار کیا جاسکتاہے۔غرض خدا تعالی کے فضل سے اس تحریک کا بہت اچھا نتیجہ نکلا اور مسلمانون کو محسوس ہو گیا کہ ان کی تمدنی اور سیاسی نجات آپس کے اتحاد میں ہے اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگیا کہ کامیابی مل کر کام کرنے سے ہی ہو سکتی ہے۔حق بات یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کی بڑائی کی خواہش نہیں ہے۔سیاسی معاملات میں ہم ہر اس