انوارالعلوم (جلد 10) — Page 616
انوار العلوم جلد ۱۰ برابر نمائندگی کا مطالبہ کریں۔ 414 پنجاب سائن کمیٹی کی رپورٹ پر تبصرہ پھر ایک اور بھی سوال ہے اور وہ یہ کہ اگر کچھ عرصہ کے بعد مسلمان مشترک انتخاب کو قبول کر لیں تو موجودہ مسودہ میں وہ کونسی شق ہے جو اس امر کا دروازہ کھلا رکھتی ہے کہ اس وقت انہیں اپنی تعداد کے مطابق حق مل جائے گا۔ محض کمیٹی کے ذہنی خیالات تو اس وقت مسلمانوں کو نفع نہیں پہنچا سکیں گے۔ کمیٹی کی تجویز کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد غلطی کے ازالہ کی صورتیں میں اس امر کولیتا ہوں کہ اب اس غلطی کا ازالہ کس طرح اس ہو سکتا ہے:۔ (1) سب سے اول تو میرے نزدیک کمیٹی کے مسلمان ممبروں کا فرض ہے کہ جب انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ مسلمان اکثریت ان کی اس تجویز کے مخالف ہے تو وہ ایک نوٹ لکھ کر کمیشن کو روانہ کر دیں کہ ہماری اس تجویز کو صرف ذاتی رائے قرار دیا جائے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان اکثریت اس کے مخالف ہے اور وہ مسلمانوں کے لئے ان کے حق کے مطابق نمائندگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ آئین دستور کے مطابق وہ اپنی قوم کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں لیکن اس امر میں وہ قومی رائے کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ پس اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ان پر واجب ہے۔ ان کا تقرر گورنمنٹ کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی قوم کی طرف سے ہوا ہے اور قوم کے خیالات کے متعلق گورنمنٹ کو اگر غلط فہمی لگے اور وہ اس کا ازالہ نہ کریں تو وہ ایک بہت بڑی اخلاقی ذمہ داری کی ادائیگی سے قاصر رہیں گے ۔ (۲) اگر وہ ایسا نہ کریں تو دوسرے مسلمان ممبران کو نسل کو جو اس معاملہ میں رائے عامہ کی تائید میں ہوں ایک میموریل بنا کر اس کی ایک ایک کاپی گورنمنٹ پنجاب سائمن کمیشن اور انڈین سائمن کمیٹی کے پاس بھیج دینی چاہئے کہ اس سوال کے متعلق ہماری رائے میں ہمارے نمائندوں نے ہماری نمائندگی نہیں کی پس اس رائے کو ان کی ذاتی رائے سمجھا جائے۔ مسلمانوں کے نمائندوں کی کثرت اس تجویز کو ہرگز قبول نہیں کر سکتی۔ (۳) مختلف سیاسی انجمنیں اور نمائندہ جماعتیں ایسے ریزولیوشن پاس کر کے مذکورہ بالا تینوں جماعتوں کو بجھوا دیں۔ جن میں کہ مسلمانوں کے خیالات کی اس بارہ میں صحیح ترجمانی ہو ۔ لیکن چونکہ سیاسی انجمنوں کا صحیح طور پر انتخاب نہیں ہوتا اور وہ باوجود اپنے بڑے بڑے ناموں کے