انوارالعلوم (جلد 10) — Page 612
بچائے- اظہار رائے میں تاخیر کی وجہ افسوس ہے کہ بوجہ سفر پر ہونے کے اردو اخبارات جو قادیان کے پتہ پر جاتے رہے تھے، مجھے دیر سے ملے اور سفر کی وجہ سے میں اس امر کے متعلق اس سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکا- مگر میں سمجھتا ہوں موجودہ حالات میں میرا خاموش رہنا قومی مفاد کے مخالف ہوگا اس وجہ سے باوجود دیر ہونے کے میں اپنے خیالات کے اظہار سے نہیں رک سکتا- مسلمان ممبروں سے تعلقات اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں مسلمان ممبران جو اس کمیٹی کے ممبر تھے، مجھے عزیز ہیں- ایک تو خود اس جماعت کے فرد ہیں جس کی خدمت اللہ تعالیٰٰ نے میرے سپرد فرمائی ہے اور میں ان کی بے نفسی اور دیانت پر ایسا ہی یقین رکھتا ہوں کہ جیسا اپنے نفس پر اور دوسرے صاحب یعنی سردارسکندرحیات خان صاحب چند ایک دفعہ کی ملاقات میں اپنی سعادت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا نقش میرے دل پر جما چکے ہیں- اور مجھے ان سے محبت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جذبہ یک طرفہ نہیں- لیکن باوجود اس کے جو کچھ خدا تعالٰی نے موجودہ صورت کے متعلق مجھے سمجھایا ہے اس کی بناء پر میں ان عزیزوں کی رائے کی علی الاعلان تغلیط سے باز نہیں رہ سکتا اور مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر یہ دونوں عزیز اپنی غلطی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے- گو مجھے شک ہے کہ ان کا ایسا اعتراف ہمیں کوئی فائدہ بھی دے سکے گا یا نہیں- اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا اصل آج سے آٹھ سال پہلے میں نے یہ اصل مختلف سیاسی لیڈروں کے سامنے پیش کیا کہ ممبریوں کی تقسیم کے متعلق یہ قاعدہ ہونا چاہئے کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ان کے حق سے زائد انہیں دیا جائے- بشرطیکہ کسی صوبہ کی اکثریت اقلیت میں تبدیل نہ ہو جائے- اس اصل کو اب عام طور پر مسلمان تسلیم کر چکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ غیر اقوام کے غیر متعصب اصحاب بھی اس کی معقولیت سے انکار نہیں کر سکتے- مسلمان ممبروں کی تسلیم کردہ تجویز میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان ممبروں کی تسلیم کردہ تجویز اس اصل کے بالکل مخالف ہے- کیونکہ گو انہوں نے ظاہر میں مسلمانوں کے لئے اکثریت کی تجویز کی ہے لیکن حقیقت میں وہ برابری ہے