انوارالعلوم (جلد 10) — Page 611
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ -ھوالناصر پنجاب سائمن کمیٹی کی رپورٹ پر تبصرہ پنجاب کے تمام مسلم اخبارات میں اس وقت شور پڑ رہا ہے کہ پنجاب سائمن کمیٹی کے مسلمان ممبروں نے جس رپورٹ پر اپنے دستخط ثبت کئے ہیں، وہ مسلمانوں کے منافع کے خلاف ہے- چونکہ سائمن کمیشن کی آمد پر ہماری جماعت کی طرف سے بھی ایک میموریل پیش ہوا تھا- اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس رپورٹ کے اس حصہ کے متعلق جو اس وقت زیر بحث ہے، اپنے خیالات ظاہر کروں- پچپن کی بجائے اکاون فیصدی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کمیٹی کے مسلمان ممبروں نے اس تجویز پر دستخط کئے ہیں کہ پنجاب کونسل میں کل ایک سوپینسٹھ ممبر ہوں جن میں سے ۸۳ ممبر مسلمان ہوں اور باقی ہندو، سکھ، مسیحی وغیرہ- اگر اس تجویز پر عمل کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو بجائے پچپن فی صدی کے اکاونفیصدی سے بھی کم ممبریاں ملتی ہیں- مسلمان ممبروں کی غلطی مجھے پہلے سے یہ معلوم تھا کہ بعض لوگ مسلمانوں میں یہ تحریک کر رہے ہیں کہ اگر وہ اپنے مطالبہ کو کم کر کے مذکورہ بالا حد تک لے آئیں تو گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ کارکن ان کے مطالبات کی تائید کرنے کے لئے تیار ہوں گے- میں نے جس وقت یہ بات سنی، اس وقت بھی اس کی مخالفت کی اور اب بھی اس کا سخت مخالف ہوں- اور میرے نزدیک پنجاب سائمن کمیٹی کے مسلمان ممبروں نے اس بات کو تسلیم کر کے سخت غلطی کی ہے، حقیقی بھی اور سیاسی بھی- اللہ تعالیٰٰ اس کے بد نتائج سے مسلمانوں کو