انوارالعلوم (جلد 10) — Page 585
۵۸۵ رکھا- دیکھو ابھی معلوم نہیں کہ مکہ والے کیا رویہ اختیار کریں گے، لڑائی کا کیا نتیجہ رونما ہو گا- مگر مکہ والوں کے ایک سردار کے یہ کہنے پر کہ فلاں افسر نے ہمارا دل دکھایا ہے، ایک کمانڈر کو معزول کر دیا جاتا ہے- کیا دنیا کی تمام جنگوں کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال دکھائی جا سکتی ہے- کمانڈر چھوڑ نائیک )NIKE) اور لانس نائیک )LANCENAIK) کی مثال بھی نہیں دکھائی جا سکتی کہ اسے اس لئے سزا دی گئی ہو کہ اس نے میدان جنگ میں کھڑے ہو کر کہا ہو آج ہم دشمن کی خوب خبر لیں گے اور اسے پوری پوری شکست دیں گے- اب میں اپنی تقریر ایک واقعہ کا ذکر کر کے ختم کرتا ہوں- مخالفوں کی طاقت کو کچلنے کا آخری موقع فتح مکہ تھا- مگر دیکھو کس محبت اور پیار کا معاملہ آپ نے ان لوگوں سے کیا- مغربیتاریخوں میں ایک مشہور شخص ابراہیم لنکن ہوا ہے- اس کے زمانہ میں دو گروہوں میں لڑائی ہو- ایک کہتا کہ غلامی قائم رہنی چاہئے مگر دوسرا گروہ اسے ظلم قرار دے کر مٹانا چاہتا- ابراہیملنکن مٹانے والوں میں سے تھا- اس کی بڑی خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب دوسرے فریق کو شکست ہوئی اور اسے فتح تو وہ سر نیچے کئے ہوئے گیا- کہتے ہیں وہ دعا کر رہا تھا کہ فیصلہ ہو گیا- فوجوں نے اسے کہا کہ بینڈ بجاتے ہوئے جانا چاہئے مگر اس نے کہا نہیں اس طرح دوسروں کا دل دکھے گا- یہ اس کی خاص خوبی بیان کی جاتی ہے- مگر وہ ایسا شخص تھا جسے ان لوگوں نے کوئی ذاتی دکھ نہ دیا تھا- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو ان لوگوں کی غداری کی وجہ سے حملہ آور ہوئے تھے- اور ان دشمنوں پر حملہ کرنے گئے تھے جنہوں نے قریبا ً ربع صدی تک مسلمانوں پر ظلم کئے تھے- جنہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بے حد دکھ دیئے تھے- مگر جب مکہ کے قریب پہنچے تو سب کمانڈروں کو جمع کیا اور فرمایا جب تم مکہ میں داخل ہو گے، میں ساتھ نہ ہوں گا، تم نے کسی کو مارنا نہیں- اور جب مکہ نظر آیا اور آپ نے مخالفوں کی طرف سے لڑائی کے سامان نہ دیکھے تو سجدہ میں گر گئے- کہا گیا ہے کہ لنکن دعا کرتا ہوا گیا تھا- مگر اس کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حالت نہ تھی- جو دکھ اہل مکہ نے آپ کو دیئے تھے، ان کا لاکھواں حصہ بھی لنکن کو نہ دیا گیا تھا- مگر آپ نے قوم کو خونریزی سے بچا لیا- مسلمانوں کے چار لشکر گئے مگر آپ کسی لشکر کے ساتھ نہ گئے بلکہ اکیلے گئے تاکہ شان نہ ظاہر ہو- اور جا کر کعبہ میں نماز پڑھی اور اعلان کر دیا کہ جو شخص گھر میں بیٹھا رہے گا، اسے معاف کیا