انوارالعلوم (جلد 10) — Page 586
۵۸۶ جاتا ہے- اس کے بعد مکہ کے لوگ آپ کے پاس آئے- وہ مسلمان نہیں تھے بلکہ اپنے مذہب پر قائم تھے- اور وہ لوگ تھے جنہوں نے ۱۳ سال کے ہر منٹ میں آپ کو مارنے کی کوشش کی تھی- اور اس کے بعد سات سال تک دو سو میل دور جا کر آپ کی تباہی کی کوشش کرتے رہے تھے- ان سے پوچھا جاتا ہے بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے- اگر ان کے جسموں کا قیمہ بھی کر دیا جاتا تو یہ ان کے جرموں کے مقابلہ میں کافی سزا نہ تھی- مگر جب انہوں نے کہا ہم سے وہی سلوک کیا جائے جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا- تو آپ نے فرمایا لا تثریب علیکم الیوم۱۳؎ جاؤ تمہیں معاف کیا جاتا ہے اور کوئی گرفت نہیں کی جاتی- یہ وہ خاتمہ ہے جو اس جنگ کا ہوا جو آپ کے قدیمی دشمنوں اور آپ کے درمیان ہوئی- وہ لوگ جو کہتے ہیں- اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا وہ سن لیں، اگر کوئی شخص یہ کہلانے کا مستحق ہے کہ اس نے تلوار کے مقابلہ میں عفو سے کام لیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے- اگر عمر بھر کے ظلموں اور دکھوں کو کسی نے بخش دیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات تھی- میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے مقدس وجود پر کوئی اعتراض کرنے کی بجائے اس کے مخالف بھی اس کی تقدیس کریں گے- اب آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ آپس کا تفرقہ دور ہو اور آپس میں ایسی صلح کریں کہ ایک دوسرے کے حقوق نہ لیں بلکہ بھائی بھائی بن کر اور ایک دوسرے کے حقوق دیتے ہوئے صلح کریں- (الفضل ۵،۷، ۸- دسمبر ۱۹۴۴ء) النحل:۳۷ الاعراف:۱۵۹) الاخلاص: ۲تا ۵ البقرة :۲۵۶ البقرة:۱۱۴ الانعام:۰۹ البقرة:19۱ الاعراف:۱۵۹) الانفال:۵۹ زرقانی مؤلفہ علامہ محمد عبدالباقی جلد ۴ صفه ام مطبوعہ مصر ۱۳۲ه مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوة بمسجدی مكة و مدينة شرح مواهب اللدنیه جلد ۲ صفحہ۳۰۲ طبع بار اول مطیع از هر یہ مصر :