انوارالعلوم (جلد 10) — Page 579
۵۷۹ روسی اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں- بات یہ ہے اس میں بہت بڑے فائدے ہوتے ہیں- جس حکومت کو دوسری حکومتیں تسلیم کر لیں، اسے بینالاقوامی قانون کے فوائد حاصل ہونے لگ جاتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے تمام مذاہب کے حقوق کو تسلیم کیا اور یہ قرار دیا کہ سب مذاہب خدا کی طرف سے ہیں- ان مذاہب کی غلط باتوں سے اختلاف بھی کیا، ان کا مقابلہ بھی کیا مگر ان کے ماننے والوں کے احساسات کا احترام کیا اور ان کے حقوق قائم کئے- یہ بہت بڑا حق تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو دیا- چوتھی تعلیم آپ نے یہ دی کہ جب کسی قسم کی بحث ہو تو گالیوں پر نہ اتر آؤ- چنانچہ آتا ہے لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم- ۷؎جب دوسری قوموں سے جھگڑا ہو تو وہ ہستیاں جنہیں تم نہیں مانتے، خواہ انہیں خدا کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہو- انہیں تم برا نہ کہو، ورنہ وہ بھی اس خدا کو گالیاں دیں گے جسے تم مانتے ہو- اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت کلامی سے روکا ہے- پانچویں بات آپ نے یہ فرمائی کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ نہیں کرنا چاہئے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سمجھا جاتا تھا جس قوم سے مذہبی اختلاف ہو اس پر حملہ کر کے اس کو تباہ کرنے کا حق حاصل ہے- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف حکم دیا- چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ فرمایا- وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ۸؎تم جنگ کر سکتے ہو- مگر انہی سے جو تم پر حملہ آور ہوں- مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کبھی کسی پر حملہ نہ کرنا- اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کو حریت ضمیر عطا کی کہ خواہ کسی کا کوئی مذہب ہو، اس وجہ سے کسی کو حق نہیں کہ اسے مارے یا نقصان پہنچائے- چھٹا سلوک آپ نے یہ کیا کہ تمام دنیا کے لئے ہدایت کا رستہ کھول دیا- پہلے کہا جاتا تھا کہ ہدایت صرف ہماری قوم کے لئے ہے- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے لئے ہدایت کا دروازہ کھول دیا اور اپنی قوم اور دوسری قوموں میں کوئی فرق نہیں رکھا چنانچہ فرمایا- انی رسول اللہ الیکم جمیعا- ۹؎میں دنیا کی سب اقوام کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں، سب کو ہدایت کا رستہ دکھا سکتا ہوں-