انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 568

۵۶۸ الہامی مانتی تھی نہ توریت کو، نہ انجیل کو نہ ژند کو- ایسے ملک اور ایسی قوم میں پیدا ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کو ایسے کامل اور ایسے اعلیٰ رنگ میں پیش کیا کہ آپ کے مخالف بھی اس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں- پہلی چیز جو توحید کے قیام کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمائی، وہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کے متعلق دنیا نے اب بھی نہیں سمجھا کہ اس کا توحید سے کیا تعلق ہے وہ نکتہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اعلان کیا کہ ساری دنیا میں نبی آتے رہے ہیں- بظاہر اس امر کا توحید سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر حقیقت یہ ہے کہ بغیر اس امر کو تسلیم کرنے کے توحید ثابت ہی نہیں ہو سکتی- بغیر یہ ماننے کے کہ مصر، ایران، ہندوستان، چین، جاپان، یورپ، امریکہ میں خدا نے نبی پیدا کئے، توحید کامل نہیں ہو سکتی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اس پر بڑا زور دیا ہے- چنانچہ قرآن میں آتا ہےان من امة الا خلافیھا نذیر ۱؎ کہ کوئی قوم ایسی نہیں گذری جس میں خدا کا کوئی نبی نہ آیا ہو- پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ولقد بعثنا فی کل امہ رسولا ۲؎ کہ ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا اس کے ساتھ ہی توحید کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ان اعبد واللہ و اجتنبوا الطاغوت ہم نے رسول اس لئے بھیجے کہ وہ لوگوں کو سکھائیں اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم میں ہی صداقت آئی، باقی ساری دنیا کو خدا نے چھوڑے رکھا تھا- حق یہ ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں گذری جس میں نبی اور رسول نہ آئے ہوں- اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح اس بات کا توحید سے تعلق ہے- جب کوئی قوم یہ خیال رکھے اور ہمارے اندر ہی خدا نے نبی یا اوتار بھیجے، دوسری اقوام میں نہیں بھیجے تو اس سے یہ بھی خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہمارا خاص خدا ہے جو دوسروں کا خدا نہیں اور یہ خیال جب ہر ایک قوم میں پیدا ہو جائے گا تو دنیا میں قومی خداؤں کا احساس پایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے متعلق یہ وسیع نظریہ کہ ایک ہی خدا سب کا خالق ہے پیدا نہ ہوگا- ہر قوم یہ محدود خیال رکھے گی کہ ایک ایسا خدا ہے جو ہماری قوم کا خدا ہے، باقیوں کو اس نے چھوڑ رکھا ہے- اس طرح خدا تعالیٰ کے متعلق محدود خیال پیدا ہوتا ہے- حالانکہ جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم میں مصلح آئے- ہندوؤں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دوسروں کی بھلائی اور بہتری کی خاطر اپنے آپ پر مصائب کے پہاڑ گرا لئے،