انوارالعلوم (جلد 10) — Page 567
۵۶۷ غرض مختلف اقوام میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا ہے- اس لئے میں ایسے رنگ میں اپنا مضمون بیان کروں گا کہ کسی پر حملہ نہ ہو بلکہ ہمارا مذہب جو کچھ بتاتا ہے، اسے پیش کیا جائے- ہمارا عقیدہ اور مذہب ہے کہ دنیا میں جس قدر مذاہب ہیں وہ سب کے سب خدا کی طرف سے قائم کئے گئے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں گذری جس میں کوئی نہ کوئی نبی، اوتار، رشی اور منی نہ گذرا ہو- یہ بات آپ نے اپنے پاس سے نہیں لکھی بلکہ قرآن کریم میں یہ بتایا گیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی خیال تھا اور پرانے آئمہ کا بھی یہی مذہب تھا- اس عقیدہ کی موجودگی میں یہ کہنا کہ توحید پہلے نہ تھی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے، قرآن کریم کی تردید کرنا ہے- جب قرآن بتاتا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے تو یقیناً ہر قوم میں توحید بھی قائم ہوئی- اگر آج کسی قوم میں توحید نہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مبعوث ہوئے، اس وقت نہ تھی تو اس سے صرف یہ معلوم ہوا کہ اس وقت وہ قوم توحید سے تہی دست ہو چکی تھی، نہ یہ کہ اس قوم میں جو نبی آیا اس نے توحید کی تعلیم نہ دی تھی- پس ہر وہ مذہب جو خدا تعالیٰ کو مانتا ہے اس میں توحید کی تعلیم دی گئی- ہاں اس پر سب اقوام متفق ہیں کہ جس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اس وقت توحید مٹ چکی تھی- چنانچہ ہندوؤں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت دنیا میں بڑی خرابی پیدا ہو چکی تھی، مذہبی حالت بہت خراب ہو چکی تھی- عیسائیوں کی کتابوں میں بھی لکھا ہے- کہ اس وقت شرک پھیل چکا تھا- اور لکھا ہے کہ اسلام کی اشاعت اور ترقی کی وجہ ہی یہ ہوئی کہ عیسائی قوم سے توحید جاتی رہی تھی- عیسائیوں نے اسلام میں توحید دیکھ کر اسے قبول کر لیا- یہی بات زرتشتی کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں چونکہ زرتشتی لوگ توحید چھوڑ چکے تھے، انہیں مسلمانوں کی پیش کردہ توحید پسند آ گئی اور وہ مسلمان ہو گئے- غرض یہ سب مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت شرک پھیل گیا تھا، دنیا میں توحید نہ رہی تھی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں پیدا ہو کر ایسے مقام میں پیدا ہو کر جو توحید سے بالکل ناواقف تھا، وہاں کوئی مذہب ہی نہ تھا، کوئی ایسی کتاب نہ تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہو کہ خدا کی طرف سے ملی ہے- بلکہ وہ لوگ سمجھتے تھے، ہمارے بزرگ جو بات کہہ گئے وہی مذہب ہے- حالانکہ مذہب وہی کہلا سکتا ہے جس کے ماننے والوں کے پاس ایسی کتاب ہو، جس کے متعلق ان کا اعتقاد ہو کہ پرمیشور یا خدا نے نازل کی ہے- غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قوم میں پیدا ہوئے جس کا کوئی مذہب نہ تھا- وہ نہ وید کو