انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 566

۵۶۶ نہیں، مگر یہ درست نہیں ہے- یہ اور بات ہے کہ توحید کی تفصیل اور تشریح میں اختلاف ہو مگر اصولی طور پر تمام مذاہب کے لوگ توحید کے قائل ہیں- حتیٰ کہ جن مذاہب کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ توحید کے خلاف ہیں، وہ بھی دراصل توحید کے قائل ہیں- میں نے ہندوؤں، سکھوں، یہودیوں، زرتشتیوں، عیسائیوں، بدھوں کی کتب کا مطالعہ کیا ہے- اور اسلام تو ہے ہی اپنا مذہب، اس کا مطالعہ سب سے زیادہ کیا ہے- ان سب کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ساری اقوام اور تمام مذاہب توحید کے لفظ پر جمع ہیں اور سب کے سب اس کے قائل ہیں- عام مسلمان خیال کرتے ہیں کہ عیسائی توحید کے قائل نہیں- مگر میں نے عیسائیوں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ مسلمان توحید کے قائل نہیں- توحید کے اصل قائل ہم (عیسائی) ہیں- اسی طرح میں نے ہندوؤں کی کتب میں پڑھا ہے کہ وہ اپنے آپ کو توحید کے قائل اور دوسروں کو اس کے خلاف بتاتے ہیں- یہی حال دوسرے مذاہب کا ہے- اس سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ لفظ توحید کے سب قائل ہیں- باقی تشریحات میں اختلاف ہے- اور جب کوئی قوم خود اقرار کرتی ہو کہ وہ توحید کی قائل ہے تو پھر اس کے متعلق یہ کہنا کہ قائل نہیں، درست نہیں ہو سکتا اور سب اقوام اور سب مذاہب کے لوگوں کا توحید کا قائل ہونا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ مسئلہ باقی دنیا کی نظر میں بھی بہت اہمیت رکھتا ہے- یاد رکھنا چاہئے کہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ اپنی ایک ہی غرض پیش کرتے ہیں- اور وہ یہ کہ بندوں کا خدا سے تعلق پیدا کرنا- خواہ اس ہستی کا نام خدا رکھ لیا جائے یا گاڈ (GOD) یا پرمیشور یا ایزد، اس سے بندہ کا تعلق پیدا کرنا مذہب کی غرض ہے- اب صاف بات ہے کہ اگر کوئی مذہب توحید پر قائم نہ ہو تو یقیناً وہ اپنے پیرؤوں کو اور طرف لے جائے گا- اور اس کا پیرو اس مقصد کے حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا جو مذہب کا ہے- جب تک ایک نقطہ نہ ہو جس پر پہنچنا مقصود ہو، اس وقت تک تمام کوششیں بے کار جاتی ہیں- اور ساری اقوام اس پر متفق ہیں کہ ایک ہی نقطہ ہے جس تک سب کو پہنچنا ہے- بعض قومیں گو بتوں کو پوجتی ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہم بتوں کو اس لئے پوجا کرتی ہیں کہ وہ خدا تک ہمیں پہنچا دیں- غرض ہر مذہب والا اپنے مذہب کی غرض خدا تک پہنچنا قرار دیتا ہے اور اگر کوئی خدا تک نہ پہنچے تو ہر مذہب والا سمجھے گا کہ وہ اصل مقصد کے پانے سے محروم رہ گیا- اس کے دوسرے لفظوں میں یہی معنی ہیں کہ جسے توحید کا راز معلوم نہ ہوا وہ محروم رہ گیا- میں نے جیسا کہ بتایا ہے، ایسے جلسوں کی