انوارالعلوم (جلد 10) — Page 555
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۵۵ رسول کریم میں ایک نبی کی حیثیت میں شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی وہ نبوت کے کام کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے۔ رسول کریم میں ایم کی تعلیمات پر پر جب ہم غور کرتے ہیں اور آپ کے صفات الہی کا بیان کام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ مذکورہ بالا کام کو آپ نے ایسے بے نظیر طریق پر کیا ہے کہ اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ خدا تعالیٰ کے وجود کے متعلق سب سے پہلی چیز اس کی صفات کا بیان ہے ایک غیر محدود ہستی ہونے کے لحاظ سے وہ اپنی صفات ہی کے ذریعہ سے سمجھا جا سکتا ہے اگر کوئی شخص صفات الہیہ کو اس طرح بیان نہیں کرتا کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی عظمت دلنشین ہو اور دوسری طرف عقل ان کا اس حد تک اور اک کر سکے جس حد تک کہ ان کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے ممکن ہو وہ ہر گز خدا تعالیٰ تک بندوں کو پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ میں ہم نے جو صفات خدا تعالیٰ کی بیان کی ہیں وہ ایسی ہیں کہ ایک اور توحید الهی طرف تو عقل انسانی ان سے تسلی پا جاتی ہے ) ہے دوسری طرف وہ ایک غیر محدودا قادر اور خالق ہستی کے بالکل شایان شان ہیں آپ ایک طرف خدا تعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہوروں اور جلووں سے پاک ثابت کرتے ہیں اور اس کی توحید پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ تمام آلائشوں اور نقصوں سے اسے پاک قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اس کی محبت اور اپنی مخلوق کو اعلیٰ درجہ کے مقامات تک پہنچانیکی خواہش کو ایسے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ انسانی دل محبت سے بھر جاتا ہے اور عقل مطمئن ہو جاتی ہے مگر آپ اسی پر بس نہیں کرتے آپ اس اصل کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ وہ امور جن پر ایمان لانا انسان کی نجات کے لئے ضروری ہو ان پر ایمان لانے کی بنیاد صرف عقلی دلیل پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ مشاہدہ پر ہونی چاہئے تاکہ دل شک و شبہ کے احتمال سے بھی پاک ہو جائے اور آپ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات اس کے خاص بندوں کے لئے ایسے خاص رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ کہ ان کے معجزانہ ظہور کو دیکھ کر انسان کا دل یقین کی آخری کیفیات سے لبریز ہو جاتا ہے۔ ملائکہ کے متعلق جہاں ایک طرف آپ نے ان لوگوں کے خیالات کو رد ملائکہ کی حقیقت کیا ہے جو ان کے وجود ہی کے منکر ہیں وہاں ان لوگوں کے خیالات کو بھی رد کیا ہے جو انہیں بادشاہی درباریوں کی حیثیت میں پیش کرتے ہیں اور بتایا ہے کہ ملائکہ نظام عالم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ میں اسی طرح ضروری وجود ہیں کہ جس طرح دوسرے