انوارالعلوم (جلد 10) — Page 554
۵۵۴ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی حیثیت میں رسول مبعوث فرما جو انہیں میں سے ہو اور ان کو تیرے نشانات سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی باتیں سکھائے اور انہیں پاک کرے- ایک سرسری نگہ ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ نبی کے کاموں کا ایک بہترین نقشہ ہے جو اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھینچ دیا ہے- نبی کا کام(۱)اللہ تعالیٰٰ کی آیات کا سنانا- (۲)کتاب کا سکھانا- (۳)حکمت کی باتوں کی تعلیم دینا اور (۴)لوگوں کے نفوس کو پاک کرنا ہے- کیا اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں کوئی اور نقشہ نبی کے کاموں کا کھینچا جا سکتا ہے؟ آؤ اب ہم دیکھیں کہ ان کاموں کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ثابت ہوتے ہیں- نبی کا پہلا کام آیات سنانا پہلا کام نبی کا آیات کا سنانا بتایا گیا ہے- آیت کے معنی عربی زبان میں عبرت اور دلیل کے ہوتے ہیں- جو چیز کسی اور چیز کی طرف راہنمائی کرے وہ آیت ہے پس آیات کے سنانے کا یہ مطلب ہوا کہ ایسی باتیں بتائیں جو امور غیبیہ پر ایمان لانے کا موجب ہوں کیونکہ امور غیبیہ ایسے امور ہیں کہ انسان ان تک خود نہیں رسائی پا سکتا خدا تعالیٰ کا وجود سب سے مقدم ہے بلکہ ایک ہی حقیقی وجود ہے مگر وہ اس قدر وراء الورا ہے کہ اس تک پہنچنا انسانی طاقت سے بالا ہے اس تک پہنچنے کا ذریعہ محض وہ دلائل اور براہین اور وہ عرفان اور مشاہدہ ظہور صفات الہیہ ہو سکتا ہے جو ہمیں اس کے قریب کر دے اور اس کے وجود کے متعلق ہمارے دلوں میں کوئی شک باقی نہ چھوڑے یہی حال قانون قدرت کے ظہور کا اور ملائکہ کا اور رسالت کا اور کلام الہی کا اور بعثت مابعدالموت کا ہے ان میں سے ایک چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کی سمجھ انسان کو براہ راست ہو سکتی ہے- بلکہ ان میں سے ہر ایک شے ایسے دلائل کی محتاج ہے جو ہمیں روحانی اور عقلی طور پر ان کے قریب کر دیں- ان سے ہمیں ایسا اتصال بخش دے کہ گویا ہم نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا- امور مذکورہ بالا کی اہمیت اس امر سے ثابت ہے کہ جس قدر بھی مذاہب ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ میں ان امور پر ایمان لانے کو ضروری سمجھتے ہیں اور کسی نہ کسی نام کے نیچے ان امور کو اپنے معتقدات میں شامل رکھتے ہیں خواہ تشریحات میں کس قدر ہی اختلاف کیوں نہ ہو- پس جو شخص بھی ان امور پر ایمان لانے کو ہمارے لئے آسان کر دیتا ہے اور ہمیں ایسے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے کہ جس جگہ کھڑے ہو کر ان امور کا گویا ایسا مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کسی