انوارالعلوم (جلد 10) — Page 16
انوار العلوم جلد 10 14 مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں کی عادت ڈالے بلکہ اپنی اولاد کو بھی یہی عادت ڈالے۔ انگریز اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک وہ دعا نہ کرلیں۔ کم از کم اتناہی کرو کہ روزانہ زندگی میں دعا کرنے کی عادت پیدا کرا دو۔ اس سے خشیت الہی پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا ہوتا ہے کہ اس کے نور کی پھوار پڑنے لگتی ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں اگر اس پر عمل ہو تو بہت جلد تبدیلی ہو جائے گی۔ (۲) اخلاق کی مضبوطی دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں وہ اخلاق کی مضبوطی ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ میں دوسروں کے سامنے ان کو شرمندہ کرتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل درد مند ہے۔ میں جب اپنی قوم کو اس حال میں دیکھتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے میں اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کوئی کیا کہے گا۔ میں اپنی قوم کو توجہ دلاتا ہوں اور جن امراض میں وہ مبتلا ہے اس سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ پس میری بات سنو کہ اس میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ اخلاق کی مضبوطی کے لئے جن امور کی ضرورت ہے۔ ان میں اول راست بازی ہے۔ قومی عمارت میں جس مصالح کی ضرورت ہے وہ انفرادی اصلاح ہے اور پہلی اینٹ راست بازی ہے۔ اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اور جس قدر اعتماد مضبوط ہو گا اسی قدر قوم میں اعلیٰ اخلاق اور معاملات کی عمدگی پیدا ہو گی۔ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کی اقتصادی فلاح کے خیال سے ان میں تحریک کی کہ وہ تجارت کی طرف توجہ کریں اور اپنی دکانیں کھولیں۔ یہ تحریک کام کر رہی ہے اور مختلف جگہ مسلمانوں کی دکانیں کھل رہی ہیں۔ لیکن میرے پاس کئی شکایات بھی آ رہی ہیں کہ آپس میں اعتماد نہیں تو دوسرے کیا کریں گے۔ اعتماد پیدا کرنے کے لئے راست بازی اول شرط ہے۔ اس لئے خود راست باز بنو اور اپنی اولادوں کو راست باز بناؤ۔ اس بات کی نگرانی کرو کہ وہ جھوٹ نہ بولیں لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ ہم گھروں میں جھوٹ بولتے ہیں تو اولاد میں راست بازی کیونکر پیدا ہوگی۔ ہم خود ان کی اس اعلیٰ قوت کو ضائع کر رہے ہیں۔ بچہ کے سامنے ماں نے ایک کام کیا مگر جب باپ نے پوچھا تو انکار کر دیا۔ اب وہ بچہ دیکھتا ہے کہ ماں نے جھوٹ بولا۔ وہ بھی اس قسم کی عادت سیکھ لیتا ہے۔ پس التزام کرو کہ ہرگز جھوٹ نہ بولو۔ اس پر ہرگز عمل نه کرد که دروغ مصلحت آمیز به از راستی فتنه انگیز یہ غلط از راستی فتنہ انگیز ۔ یہ غلط ہے کہ سچ سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ سچ اگر مصیبت کے وقت نہ بولو گے تو اور کونسا وقت اس کے بولنے کا ہے۔ پس کسی مصیبت سے ڈر کر سچ کو ترک نہ کرو۔