انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 15

۱۵ حالت اور وقت کے لئے آپ نے دعائیں تعلیم فرمائیں۔مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ آج وہ سب سے زیادہ دعاسے عملاً متنفر ہیں۔عیسائی سب سے زیادہ دعا کی طرف متوجہ ہیں اور ہندو بھی کم نہیں۔میرے ماموں صاحب نے جو ڈاکٹر ہیں فرمایا کہ دہلی دربار کی تقریب پر مہاراجہ صاحب در بھنگہ عبادت کرتے ہوئے انگیٹھی سے جل گئے۔یہ ان کی عبادت میں مشغولیت اور توجہ کی ایک مثال ہے کیا مسلمانوں کے اس طبقہ کے لوگوں میں ایسی مثال ملے گی؟ جو باوجود نوابی کے اپنی عبادت اور دُعا میں ایسے مصروف ہوتے ہوں۔یورپ جہاں دہریت کا زور ہے اور اپنی دہریت کو یہاں آکر بھی پھیلاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے دُعاؤں سے وہ بھی غافل نہیں۔حرب عظیم کے ایام میں 1918ء میں ایک موقع پر فرانسیسی اور انگریزوں کی فوجوں کوہیلی کا میدان خالی کر دینا پڑا۔اس وقت لارڈ ہیگ نے مسٹرلائڈ جارج کو جو پرائم منسٹر تھے تار دیا۔لائیڈ جارج اس وقت اپنے وزراء کو لے کر مشورہ کر رہے تھے۔تار کا مضمون یہ تھا کہ دنیوی تدابیر کا خاتمہ ہو چکا سواۓ آسمانی ہاتھ کے کوئی نہیں بچا سکتا اس وقت لائڈ جارج کھڑا ہو گیا اور اپنے وزراء کو لے کر دُعامیں مصروف ہو گیا۔اور کہا اب تدبیر کا وقت نہیں رہا۔میں نہیں جانتا خدا تعالی نے اس دُعا کو سنایا دنیوی سامان پیدا ہو گئے مگر یہ واقعہ ہے کہ جرمنوں کو کئی گھنٹہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ میدان خالی ہے۔اتنے میں پیر س سے فوجیں لائی گئیں اور شکست فتح سے تبدیل ہوگئی۔یہ اس قوم کا حال ہے جس کو دہر یہ کہتے ہیں کہ ان میں بھی دُعا کی طرف توجہ پائی جاتی ہے۔لیکن توجہ نہیں تو مسلمانوں کو۔ابھی یہاں ایک مشاعرہ ہوا تھا۔میں نے غور سے سنا کسی ہندو شاعر نے اپنے مذہب کے خلاف نہ کہا مگر مسلمان شاعروں کے کلام میں اس قسم کے مضامین آئے کہ خدا کی جنت کی ضرورت نہیں یا دعا کی ضرورت نہیں۔میں نے انگریزی شعروں کو بھی پڑھاہے، ان میں بھی یہ بات نہیں مگر مسلمانوں کے اشعار میں ہی یہ بیماری نظر آتی ہے۔جب ہمارا یہ حال ہو تو دوسروں کو کچھ کہنے کا کیا حق ہے۔میں تو اس وقت فرقہ وارانہ طریق پر نہیں بول رہا ہوں۔گو میرا ایمان یہی ہے کہ کوئی شخص کامل الایمان نہیں ہو سکتا جب تک میری جماعت میں داخل نہ ہو مگر میں عام طور پر کہتا ہوں۔شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا کوئی اور اس کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خود دعا کی طرف توجہ کرے اور دعاؤں