انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 544

۵۴۴ اور جھوٹے تقویٰ کی چادر کو بھی چاک کر دیا اور حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاک رہنے کو پسند کرتا ہے- آپ جہاں رہتے اکثر غسل فرماتے- کئی امور کے ساتھ غسل کو آپ نے واجب قرار دے دیا- چونکہ انسان اپنے گھر کے اشغال کی وجہ سے صفائی میں سستی کر بیٹھتا ہے اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے میاں بیوی کے تعلقات کے ساتھ غسل کو واجب قرار دیا- پانچوں نمازوں سے پہلے آپ ان اعضا کو دھوتے جو عام طور پر گردو غبار کا محل بنتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس امر پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیتے- کپڑوں کی صفائی کو آپ پسند فرماتے- جمعہ کے دن دھلے ہوئے کپڑے پہن کر آنے کا حکم دیتے اور خوشبو کو خود بھی پسند فرماتے اور اجتماع کے مواقع کے لئے خوشبو کا لگانا پسند فرماتے- جہاں اجتماع ہونا ہو چونکہ مختلف قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں متعدی بیماریوں کے اثرات کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا، آپ وہاں خوشبودار مصالحہ جات اور ان جگہوں کو صاف رکھنے کا حکم دیتے- بدبودار اشیاء سے پرہیز فرماتے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے کہ بدبودار اشیاء کھا کر اجتماع کی جگہوں میں آئیں- غرض جسم کی صفائی، لباس کی پاکیزگی اور ناک کے احساس کا آپ پورا خیال رکھتے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیتے- ہاں یہ ضرور فرماتے کہ جسم کی صفائی میں اس قدر منہمک نہ ہو جاؤ کہ روح کی صفائی کا خیال ہی نہ رہے اور لباس کی پاکیزگی کا اس قدر خیال نہ رکھو کہ ملکوملت کی خدمت سے محروم ہو جاؤ اور غریب لوگوں کی صحبت سے احتراز کرنے لگو اور کھانے میں اس قدر احتیاط نہ کرو کہ ضروری غذائیں ترک ہو جائیں ہاں یہ خیال رکھو کہ اہل مجلس کو تکلیف نہ ہو تاکہ اچھے شہری بنو اور لوگ تمہاری صحبت کو ناگوار نہ سمجھیں بلکہ اسے پسند کریں اور اس کی جستجو کریں لوگوں نے کہا کہ صفائی اور خوشبو سے بچو کہ وہ جسم کو پاک مگر دل کو ناپاک کرتی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ حبب الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الطیب ۱؎ اور ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرین ۲؎ مجھے خوشبو کی محبت بخشی گئی ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ ظاہری اور باطنی صفائی رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے- مرد و عورت کا تعلق عورت و مرد کا تعلق بھی ایک ایسا طبعی تقاضا ہے کہ دنیا کا تمدن اس پر مبنی ہے اور وہ گویا دنیا کی ترقی کے لئے بمنزلہ بنیاد کے ہے مگر عجیب بات ہے کہ دنیا کے ایک کثیر حصہ نے اسے بھی روحانیات کے خلاف سمجھ رکھا ہے- وہ عورت جو نسلِ انسانی کے چلانے کی ذمہ وار ہے جس کے بغیر انسان ایک کٹا ہوا جسم معلوم ہوتا ہے جو