انوارالعلوم (جلد 10) — Page 545
۵۴۵ کسی کام کا نہیں جو مرد کے لئے بطور لباس کے ہے اور جس کے لئے مرد بطور لباس کے ہے اس عورت کو ہاں اس عورت کو ایک ناپاک شے قرار دیا جاتا تھا اور خدا رسیدہ انسان کے لئے جائے اجتناب سمجھا جاتا تھا اور اس طرح گویا پاکیزگی کو انسانیت کے مخالف قرار دے کر خود پاکیزگی کے درخت پر ہی تبر رکھا جاتا تھا- کیا یہ سچ نہیں کہ انسان ہی حقیقی پاکیزگی کا برتن ہے اور برتن کے بغیر لطیف اشیاء محفوظ رہ ہی نہیں سکتیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو پا کر انسان کو نہیں بھلایا- آپ نے شادیاں کیں اور اپنے ملک کے فائدہ اور مسلمانوں کے فائدہ اور بعض دفعہ خود بیویوں کے فائدہ کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور نہ صرف شادیاں کیں بلکہ جذبات محبت سے اپنی بیویوں کو محروم نہیں کیا- اور ان سے اس طرح معاملہ کیا کہ ان میں سے ہر اک نے یہ سمجھا کہ گویا آپ اسی کے لئے ہیں آپ خدا کے تھے اور خدا آپ کا تھا- مگر آپ نے کہیں یہ ظاہر نہیں کیا کہ گویا خدا تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے نرالا پا کر چن لیا بلکہ آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ بہتر انسان کو اپنے لئے چنتا ہے چونکہ آپ بہتر انسان بن گئے اس لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو اختیار کر لیا- بیوی کی محبت خدا کی رحمت ہے دنیا نے کہا کہ تم اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو چھوڑ دو اہلی تعلقات کی بنیاد کو اکھاڑ کر پھینک دو- تب تم خدا سے ملو گے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں بلکہ تم اپنے اہل ہی کے ذریعہ سے خدا سے مل سکتے ہو دنیا کا ہر ایک ذرہ خدا کی پیدائش ہے اور ہر اک ذرہ تم کو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور جس چیز کو اس نے جس قدر خوبصورت بنایا ہے اسی قدر واضح طور پر وہ خدا تعالیٰ کے رستہ کیلئے دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کی اعلیٰ مخلوقات میں سے عورتیں بھی ہیں اسی وجہ سے حبب الی من دنیاکم النساء ۳؎ مجھے دنیوی چیزوں میں سے بیویوں کی محبت خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تحفہ کے ملی ہے اور خیر کم خیر کم لاھلیکم ۴؎تم میں سے بہتر لوگ وہی ہو سکتے ہیں جو اپنی بیویوں اور بچوں سے زیادہ نیک سلوک کریں- اور ان کے احساسات کا خیال رکھیں- کیا ہی عجیب فرق ہے دنیا نے کہا کہ خدا نے عورت کو ایک خوبصورت سانپ بنا کر پیدا کیا ہے اور انسان کو ہوشیار کیا ہے کہ اس کی خوبصورتی کی طرف نہ دیکھے بلکہ اس کے زہر سے بچے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں بیویوں سے محبت کروں اور جو رحمتیں اس نے مجھ پر کی ہیں ان میں سے ایک رحمت یہ ہے کہ میرے دل میں