انوارالعلوم (جلد 10) — Page 512
۵۱۲ اس دعویٰ کے ثبوت میں یہ بات پیش کرتے ہیں کہ-: (۱) محمد )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس قدر کام ہوتے تھے اور جس طرح وہ لڑائیوں اور شورشوں میں گھرے ہوئے تھے ایسی حالت میں انہیں قرآن صحیح طور پر کہاں یاد رہ سکتا تھا- (۲) کہا جاتا ہے کہ عربوں کا حافظہ بہت اچھا تھا- مگر یہ غلط ہے- صحیح بات یہ ہے کہ ان کا حافظہ اچھا نہیں ہوتا تھا جو اس سے ظاہر ہے کہ ان کی ان نظموں میں اختلاف ہے جو پہلے شاعروں کی ہیں- کوئی کسی طرح بیان کرتا ہے اور کوئی کسی طرح- اس سے معلوم ہوا کہ عربوں کے حافظے اچھے نہ تھے ورنہ اختلاف کیوں ہوتا- (۳) قرآن رسول کے زمانہ میں پورا نہیں لکھا گیا- اگر پورا لکھا جاتا تو حافظوں کے مارے جانے پر قرآن کے ضائع ہو جانے کا خطرہ کیوں ظاہر کیا جاتا- (۴) قرآن میں آتا ہے- الذین جعلوا القران عضین ۹؎یعنی وہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا- کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے پیدا ہو گئے تھے- (۵) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خود پڑھے لکھے نہ تھے اس لئے انہوں نے قرآن لکھنے کے لئے کاتب رکھے ہوئے تھے اور وہ جو چاہتے لکھ دیتے- (۶) لکھا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں قرآن کے پڑھنے میں بڑا اختلاف ہو گیا تھا- اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں قرآن کے متعلق اختلاف موجود تھا- (۷) حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وقت کے قرآن کی جتنی کاپیاں تھیں وہ جلوا دی تھیں- اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں اختلاف تھا اس قرآن سے جو عثمانؓ نے لکھوایا- اگر اختلاف نہیں تھا تو ان کو کیوں جلوایا گیا- (۸) قرآن کریم کی اصلیت پر صرف زید گواہ ہے- مگر اس کا تو فرض تھا کہ قرآن لکھے- اس پر بھروسہ کس طرح کیا جا سکتا ہے- (۹) اگر حضرت ابوبکرؓ کے وقت کے قرآن کی کاپی درست تھی تو پھر حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں دوبارہ لکھوانے کی کیا ضرورت تھی- یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ کی کاپیوں کو غلط سمجھا گیا- (۱۰) حضرت عثمانؓ پر الزام لگایا گیا ہے کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو بہت سے قرآن تھے-