انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 513

۵۱۳ لیکن جب وہ فوت ہوئے تو پیچھے صرف ایک قرآن چھوڑا- اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف والے قرآنوں کو جلا دیا گیا تھا- مخالفین کے اعتراضات کے جوابات اب میں ان اعتراضوں کا جواب دیتا ہوں- پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے کاموں اور شورشوں میں قرآن کریم یاد کس طرح رہ سکتا تھا- یہ ایسا سوال ہے کہ اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایک واقعہ کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے- جب واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو یاد رہا اور شب و روز نمازوں میں سنایا جاتا رہا تو اس کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے- مجھے یاد ہے ایک دفعہ میرے سامنے پروفیسر مارگولیتھ نے یہ اعتراض کیا کہ اتنا بڑا قرآن کس طرح یاد رہ گیا- میں نے کہا- محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو قرآن اترا تھا اور آپﷺ~ کے سپرد ساری دنیا کی اصلاح کا کام کیا گیا تھا؟ آپﷺ~ اسے کیوں یاد نہ رکھتے- میرے ایک لڑکے نے گیارہ سال کی عمر میں قرآن یاد کر لیا ہے- اور لاکھوں انسان موجود ہیں جنہیں سارے کا سارا قرآن یاد ہے- جب اتنے لوگ اسے یاد کر سکتے ہیں تو کیا وہی نہیں کر سکتا تھا جس پر قرآن نازل ہوا تھا- دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عرب کے لوگوں کا حافظہ اچھا نہ تھا، کیونکہ وہ پرانی نظموں میں اختلاف کرتے ہیں- اس کے متعلق اول تو میں کہتا ہوں کہ یہ شتر مرغ والی مثال ہے- ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ عربوں کو پرانے قصیدے یاد ہوتے تھے جن میں اختلاف ہوتا تھا- اور دوسری طرف مارگولیتھ کہتا ہے کہ پرانے زمانہ میں قصیدے تھے ہی نہیں یوں ہی بنا کر پہلے لوگوں کی طرف منسوب کر دیئے گئے ہیں- گویا جس پہلو سے اسلام پر اعتراض کرنا چاہا- وہی سامنے رکھ لیا- اصل بات یہ ہے کہ عربوں کے ایسے حافظے ہوتے تھے کہ مشہور ہے ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ جس شاعر کو ایک لاکھ شعر یاد نہ ہوں وہ میرے پاس نہ آئے- اس پر ایک شاعر آیا اور اس نے آ کر کہا- میں بادشاہ سے ملنے کے لئے آیا ہوں- اسے بتایا گیا کہ بادشاہ سے ملنے کے لئے ایک لاکھ شعر یاد ہونے ضروری ہیں- اس نے کہا- بادشاہ سے جا کر کہہ دو- وہ ایک لاکھ شعر اسلامی زمانہ کا سننا چاہتا ہے یا زمانہ جاہلیت کا- عورتوں کے سننا چاہتا ہے یا مردوں کے- میں سب کے اشعار سنانے کیلئے تیار ہوں- یہ سن کر بادشاہ فوراً باہر آ گیا- اور آکر کہا- کیا آپ فلاں شاعر ہیں- اس نے کہا- ہاں میں وہی ہوں- بادشاہ نے کہا- اسی لئے میں نے یہ اعلان کیا