انوارالعلوم (جلد 10) — Page 510
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۱۰ فضائل القرآن (1) کے لئے آئی ہو اسے محفوظ رکھنا بھی ضروری تھا۔ اگر قرآن ایک ہی دفعہ سارے کا سارا اثر تا تو اسے وہی شخص حفظ کر سکتا تھا جو اس کے لئے اپنی ساری زندگی وقف کر دیتا۔ لیکن آہستہ آہستہ اترنے سے بہت لوگ اس کو یاد کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنے دوسرے کاروبار کے ساتھ قرآن کریم بھی حفظ کرتے گئے۔ اس طرح رسول کریم میں تعلیم کا دل اس بات پر مضبوطی سے قائم ہو گیا کہ یہ کتاب ضائع نہیں ہوگی بلکہ محفوظ رہے گی۔ یہی وجہ تھی کہ رسول کریم ملی ایم کے وقت بہت کثرت سے ایسے لوگ تھے جنہیں قرآن کریم حفظ تھا مگر اب اس نسبت کے لحاظ سے بہت کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی وجہ سے بہت لوگ ساتھ کے ساتھ یاد کرتے جاتے تھے۔ (۳) تیسری حکمت تھوڑا تھوڑا نازل ہونے میں یہ ہے کہ ایک دفعہ سارا قرآن نازل ہونے کی وجہ سے لوگوں کے قلوب میں راسخ نہ ہو سکتا تھا۔ اب ایک ہندو جب مسلمان ہو تا ہے تو اسے اسلامی احکام پر عمل کرنے والے مسلمان نظر آتے ہیں۔ اس لئے وہ گھبراتا نہیں اور ان احکام پر عمل کرنا بوجھ نہیں سمجھتا۔ لیکن اگر کسی کو ہم ایک کتاب لکھ کر دے دیں کہ اس پر عمل کرو اور کوئی نمونہ موجود نہ ہو تو لوگ سو سال میں بھی اس پر عمل کرنا نہ سیکھ سکیں۔ پس قرآن کریم کی تعلیم کو راسخ کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے آہستہ آہستہ نازل کیا جاتا۔ ایک حکم پر عمل کرنا جب لوگ سیکھ جاتے تو دوسرا نازل ہوتا۔ پھر تیسرا ۔ اور اس طرح سارے احکام پر عمل کرایا جاتا۔ (۴) اگر ایک ہی وقت قرآن نازل ہوتا تو ترتیب وہی رکھنی پڑتی جو اب ہے۔ لیکن یہ ترتیب اُس وقت رکھی جانی خطرناک ہوتی۔ جس طرح اب ہمارے لئے وہ ترتیب خطر ناک ہے۔ جس کے مطابق قرآن نازل ہوا تھا۔ اگر نماز اور روزوں وغیرہ کے احکام شروع میں ہوتے اور نبوت ثابت نہ ہو چکی ہوتی تو وہ سمجھ میں ہی نہ آسکتے تھے۔ پس پہلے نبوت کو ثابت کرنے کی ضرورت تھی اور یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچانی چاہئے تھی کہ یہ سچا نبی ہے۔ اس کے بعد عمل کی دعوت کا موقع تھا جس کے لئے احکام سکھائے جاتے۔ مگر اب یہ ضروری نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صداقت کو ماننے والی ایک جماعت موجود ہے۔ اب جو شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ محمد رسول اللہ میں تعلیم کی صداقت اور اسلام کی خوبیوں سے واقف ہو کر آتا ہے۔ پس اس کے لئے قرآن کی اسی ترتیب کی ضرورت ہے جو اب ہے۔ لیکن قرآن کے