انوارالعلوم (جلد 10) — Page 509
۵۰۹ قرآن کریم کا نزول چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں یورپ کے مستشرق کہتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوا- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں- خدا کو کیا ضرورت تھی کہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کرتا اسے تو اگلا پچھلا سب حال معلوم ہوتا ہے- چونکہ بندہ کو ہی اگلے حالات کا علم نہیں ہوتا اس لئے وہ اگلی باتوں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حالات پیش آتے جاتے تھے ان کے متعلق قرآن میں ذکر کر دیتے- پس یہ انکا کلام ہے، خدا کا کلام نہیں- قرآن کریم نے خود اس سوال کو لیا ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے- وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جملہ واحدہ ۶؎ یعنی کفار کہتے ہیں کہ قرآن اس رسول پر ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سوال عیسائیوں کو اب سوجھا ہے یہی سوال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کفار نے بھی کیا تھا کہ ایک ہی دفعہ قرآن کیوں نہ اترا- اس کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ کذلک اسی طرح اترنا چاہئے تھا جس طرح اتارا گیا ہے- لنثبت بہ فوادک ۷؎ اور اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ہم تیرے دل کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں- گویا قرآن کا ٹکڑے ٹکڑے نازل ہونا خدا تعالیٰ کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے اس کی شان بلند کا اظہار ہوتا ہے- اب سوال یہ ہے کہ آہستہ آہستہ قرآن کے نازل ہونے سے دل کی مضبوطی کس طرح ہوتی ہے اس کے متعلق میں چند باتیں بتا دیتا ہوں- (۱)اگر ایک ہی دفعہ قرآن نازل ہو جانے پر اس سے استدلال کرتے رہتے تو دل کو ایسی تقویت حاصل نہیں ہو سکتی تھی جیسی کسی امر کے متعلق فوراً کلام الہی کے اترنے سے ہو سکتی ہے- دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو لطف اس میں آتا ہوگا کہ آپ کوئی کام کرتے اور اس کے متعلق وحی ہو جاتی اور خدا تعالیٰ اپنی مرضی اور منشاء کا اظہار کر دیتا- وہ لطف ہمیں اجتہاد سے کہاں حاصل ہو سکتا ہے- اسی طرح جب کوئی واقعہ پیش آتا، آپ پر اس کے متعلق کلام الہی نازل ہو جاتا اور اس طرح معلوم ہو جاتا کہ اس کلام کا یہ مفہوم ہے- اگر آپ اجتہاد کر کے آیات کو کسی بات پر چسپاں کرتے تو وہ لطف نہ آتا جو اس صورت میں آتا تھا- (۲)قرآن کریم لنثبت بہ فوادک کا مصداق اس طرح ہے کہ جو کتاب ساری دنیا